’امریکہ سلالہ حملے پر معذرت کرےگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سلالہ چوکی پر نیٹو افواج کے حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد پاکستان نے نیٹو افواج کے لیے اپنے زمینی راستے بند کر دیے تھے۔

سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات میں آنے والے بگاڑ کو درست کرنے کے عمل میں شریک بعض پاکستانی حکام پرامید ہیں کہ امریکہ بہت جلد سلالہ حملے پر باضابطہ معذرت کا اظہار کردے گا۔

گزشتہ نومبر افغان سرحد کے ساتھ پاکستانی فوجی چوکی پر نیٹو افواج کے حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نے امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا اور افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے اپنے زمینی راستے بند کر دیے تھے۔ تاہم نیٹو اور امریکہ نے تفتیش کے بعد اس حملے کو غلط فہمی پر مبنی قرار دے کر معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا۔

سلالہ حملے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے جنہیں بہتر بنانے کے لیے گزشتہ دو ماہ سے غیر روایتی سفارتی روابط (بیک ڈور ڈپلومیسی) استعمال میں لائی جا رہی تھی۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان ان غیر اعلانیہ فوجی اور سفارتی رابطوں سے آگاہ ایک سینئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی پالیسی ساز بہت حد تک اس بات پر قائل ہو چکے ہیں کہ سلالہ واقعے پر معافی کا پاکستانی مطالبہ بلا جواز نہیں ہے۔

اس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی حکام کو قائل کرنے میں سلالہ واقعے پر پاکستانی رپورٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے جس کے بعض حصے شائع کیے جا چکے ہیں۔

اس رپورٹ میں واقعاتی شہادتوں اور گواہوں کے بیانات سے ثابت کیا گیا ہے کہ سلالہ حملے میں بعض امریکی اور نیٹو فوجیوں کا ایسا کردار رہا ہے جسے نرم سے نرم الفاظ میں بھی ’غیر پیشہ وارانہ‘ اور ’سفاکانہ‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک افسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستانی اور امریکی حکام کے درمیان سلالہ تنازعے پر غیر روایتی طریقوں سے ہونے والے روابط کا سلسلہ مکمل ہو چکا ہے۔

اس افسر نے بھی اپنا نام ظاہر کرنے سے معذرت کی کیوں کہ وہ سرکاری طور پر میڈیا سے گفتگو کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ اس افسر کا کہنا ہے کہ دو ماہ پر محیط ان روابط میں پاکستانی وزیرخارجہ اور امریکہ میں پاکستانی سفیر اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے علاوہ دونوں جانب سے بعض سینئر فوجی افسر بھی شامل رہے۔

اس افسر کا کہنا ہے کہ دو ماہ پر محیط ان روابط میں پاکستانی وزیرخارجہ اور امریکہ میں پاکستانی سفیر اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے علاوہ دونوں جانب سے بعض سینئر فوجی افسر بھی شامل رہے۔

اس افسر کا کہنا تھا کہ پاکستانی سفارتی اور فوجی قیادت نے بہت خوبی سے اپنا کیس امریکی پالیسی سازوں کے سامنے پیش کیا ہے اور اس طرح کے اشارے ملے ہیں کہ امریکی حکام معافی مانگنے کے پاکستانی مطالبے کو اب جائز تصور کرتے ہیں۔

تاہم اس افسر نے کہا کہ امریکہ کس وقت، کس طرح اور کس سطح پر باضابطہ معافی مانگتا ہے، یا مانگتا ہے بھی یا نہیں، اس بات کا انحصار بہت حد تک پاکستانی پارلیمان کے رد عمل پر بھی منحصر ہے۔

اس افسر نے کہا کہ امریکہ میں پاکستانی پارلیمان کے اس مشترکہ اجلاس کا انتظار کیا جا رہا ہے جس میں امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی سے متعلق قراداد پیش کی جائے گی۔

اسی بارے میں