رنکل، ریلیاں اور بھوک ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہندو برداری پورے سندھ میں رنکل کماری کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے

دنیا میں ہندو برادری ہولی کا تہوار منا رہی ہے، مگر کراچی پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر ایک ہندو ماں اور ان کی بیٹی اداس بیٹھی ہیں۔ یہ رنکل کماری کی ماں اور بہن ہیں۔

رنکل کماری کے والدین کا کہنا ہے کہ نوید شاہ نے ان کی بیٹی کو اغوا کرنے کے بعد جبری شادی کی ہے، جبکہ مجسٹریٹ کے پاس موجود بیان اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے رنکل کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرکے نوید شاہ سے بیاہ رچایا ہے۔

پورے سندھ میں ہندو برادری رنکل کماری کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور میرپور ماتھیلو میں پیر بھرچونڈی کے مرید نوید شاہ کی حمایت میں ریلیاں نکال رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رنکل اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہیں اور ان پر پیر بھرچونڈی کے گدی نشین میاں عبدالحق کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔

انٹر نیٹ پر رنکل کماری کی بازیابی کے لیے جاری مہم کے بعد سندھی سوشل فورم نے پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا، جس میں رنکل کی والدہ سلچھنی بائی اور رنکل کی بڑی بہن صنم کماری نے بی بی سی کو بتایا کہ جب بھی رنکل کو عدالت میں لایا گیا اس کے ساتھ مسلح افراد ساتھ تھے، انہیں رنکل سے ملنے نہیں دیا جا رہا ، ’گھوٹکی میں بھی اسے صرف دور سے دیکھا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ رنکل کے مبینہ اغوا کے بعد انہوں نے اپنا گھر چھوڑ دیا ہے کیونکہ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور وہ عدم تحفط کا شکار ہیں کہ کہاں جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رنکل کی تین بہنیں اور ایک بھائی ہے

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق رنکل کی تین بہنیں اور ایک بھائی ہے، صنم کماری کے مطابق ایک ماہ کے بعد ان کے بھائی کی شادی ہونے تھی جس کے لیے خود رنکل خریداری میں مصروف تھی۔

صنم کماری کے مطابق رنکل کے پاس ذاتی موبائل فون بھی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ باہر سے کوئی رابطہ کرتا۔ ’ہم بہنوں کی آپس میں بہت دوستی ہے مگر رنکل نے کبھی بھی ہم سے کسی کا ذکر نہیں کیا اور نہ کبھی ایسا کوئی ارداہ ظاہر کیا۔‘

دوسری جانب رنکل کماری عرف فریال کو سکھر ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں نوید شا اور رنکل کماری نے تحفظ کے لیے پٹیشن دائر کر رکھی تھی۔ عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ رنکل کماری کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کے روبرو پیش کیا جائے۔

یاد رہے کہ رنکل کے ماموں راج کمار نے سندھ ہائی کورٹ کراچی میں رنکل کی بازیابی کے لیے پٹیشن دائر کی تھی جس پر عدالت نے رنکل کو بارہ مارچ کو پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

سکھر ہائی کورٹ میں پیشی کے موقعے پر سیاہ برقعہ پہنی ہوئی رنکل عرف فریال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ان کا نکاح نوید شاہ سے ہوچکا ہے اور اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ انہیں کس سے خطرہ ہے تو نوید شاہ نے کہا کہ ماموں سے۔ رنکل نے نوید شاہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ماموں سے خطرہ ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سندھ سے تین ہندو لڑکیوں رنکل کماری، ڈاکٹر لتا اور پوجا دیوی کے مبینہ اغوا کا نوٹیس لیا ہے، پاکستان ہندو کونسل کی درخواست کی سماعت کے موقعے پر ڈاکٹر رمیش لال نے ان واقعات کی نشاندھی کی اور کہا کہ اس سے ہندو برداری عدم تحفظ کا شکار سمجھتی ہے، چیف جسٹس نے آئی جی سندھ کو حکم جاری کیا کہ چبھیس مارچ کو ان لڑکیوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

اسی بارے میں