لاکھوں متاثرین تاحال امداد سےمحروم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سندھ میں غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد پیپلز اکاؤنٹبلٹی کمیشن آن فلڈز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب اور شدید بارشوں سے متاثرہ لاکھوں خاندان حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث پاکستان کارڈ اور وطن کارڈ کے تحت ملنے والی مالی امداد سے محروم ہیں۔

حکومت کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ افراد کو سنہ دو ہزار دس اور گیارہ میں وطن کارڈ جاری کیے گئے تھے۔

پیپلز اکاونٹبلٹی کمیشن آن فلڈز سندھ میں سیلاب اور بارش سے متاثرین کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کا اتحاد ہے جو متاثرین کی فلاح و بہبود کے عمل کی نگرانی کرتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مطابق دو ہزار دس کے سیلاب کے متاثرین کو پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متاثرہ خاندانوں کو وطن کارڈ کے ذریعے مالی امداد فراہم کی گئی تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی کے باعث سندھ میں پاکستان کارڈ کا دوسرا مرحلہ شروع ہی نہیں ہو سکا۔

سندھ میں ڈھائی لاکھ خاندانوں کو دوسرے مرحلے میں وطن کارڈ کے ذریعے فی خاندان بیس ہزار رپے امداد فراہم کرنا تھی۔ اس مقصد کے لیے عالمی ڈونرز اور ورلڈ بینک سے رقم بھی حاصل کر لی گئی تھی مگر سندھ حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث اس پر عملدر آمد نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب دو ہزار گیارہ کی شدید بارشوں کے متاثرین کی مالی امداد کے لیے سندھ حکومت نے پاکستان کارڈ جاری کیے جس میں وفاقی حکومت کی مالی معاونت بھی شامل تھی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کارڈ کے تحت ملنے والی رقم پہلے مرحلے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد خاندان حاصل ہی نہیں کر سکے جبکہ پچیس ہزار خاندانوں کے کارڈ ایکٹیویٹ ہی نہیں ہو سکے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان کارڈ کے دوسرے مرحلے کے لیے گیارہ ارب سے زائد رقم مختص کی تھی مگر تاحال دوسرے مرحلے کا آغاز نہیں ہوسکا ہے۔ یہ رقم ٹھٹہ، بدین، تھرپارکر، ٹنڈومحمدخان، ٹنڈوالہیار، بینظیر آباد، میر پور خاص، گھوٹکی، جامشورو، سانگھڑ، مٹیاری، حیدرآباد اور دادو اضلاع کے متاثرین کو ملنا تھی۔

کارڈ کی فراہمی کے طریقہ کار کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے مکمل اور جزوی طور پر متاثرہ نے تحصیلوں اور گوٹھوں کی تفصیلات بورڈ آف ریونیو کو فراہم کرنی تھی جبکہ نادرا اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے متاثرہ خاندانوں اور علاقوں کے تصدیق کے عمل کو مکمل کرنا تھا۔

رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے فی خاندان کو دس ہزار رپے پہلی قسط کے طور پر جاری کیے جس کے بعد گزشتہ سات ماہ سے متاثرین پہلی اور دوسری قسط کے منتظر ہیں۔

کمیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وطن کارڈ کے دوسرے مرحلے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور پاکستان کارڈ کے ذریعے دی جانے والی رقم کے عمل کو تیز اور شفاف بنایا جائے جبکہ بینکوں اور نادرا کے دفاتر میں خواتین عملے کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

اسی بارے میں