اسلم بیگ کی ہدایت پر رقم بانٹی:اسد درانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسددرانی نے اپنے بیان میں مہران بینک سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے

ریٹائرڈ ایئرمارشل اصغر خان کی جانب سے پاکستانی سیاست، انتخابات اور حکومتوں کی تشکیل میں پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مشکوک کردار کو چیلنج کیے جانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل اسد درانی نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل (ر) اسلم بیگ کی ہدایت پر سیاستدانوں میں چودہ کروڑ روپے تقسیم کیے تھے۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں جمعہ کو تین رکنی پینچ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اسد درانی نے عدالت کو بتایا کہ ’میں یہ تسلیم کرتا ہوں ہو کہ سن انیس سو نوے کے موسمِ سرما میں مجھے اسلم بیگ کی جانب ہدایت ملی کہ کراچی کی کاروباری برادری کے بعض ارکان نے اسلامی جمہوری اتحاد کو دینے کے لیے فنڈز جمع کر لیے ہیں‘۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق عدالت کے سامنے با آوازِ بلند اپنا بیان پڑھتے ہوئے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے معلوم تھا کہ اسلم بیگ کو رقم اکھٹی کرنے کی ہدایت اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے آئی تھی‘۔

اسد درانی نے بیان میں کہا کہ ’مجھے کہا گیا تھا کہ اسی مقصد کے لیے بنائے گئے الیکشن سیل کی جانب سے دیے گئے فارمولے کے مطابق رقم کی تقسیم یقینی بناؤ‘۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے خفیہ ادارے میں کسی بھی سیاسی ونگ کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’ کوئی بھی فوجی سیاسی کام کر سکتا ہے‘۔

جب سماعت شروع ہوئی تو سب سے پہلے فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسلم بیگ کو عدالت میں جمع کرائے جانے والے اپنے بیان کے پیراگراف نمبر چودہ کے لیے تحریری معافی مانگنی پڑی۔

اس پیراگراف میں انہوں نے تین مختلف چیف جسٹس صاحبان کے سامنے اپنی پیشی کو ’ہیٹ ٹرک‘ کہا تھا ۔عدالت نے اسلم بیگ کے بیان کے پیراگراف نو پر بھی ان کی سرزنش جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’سیاست اور جرم مل گیا تو انصاف کی عدم فراہمی کی وجہ بنی‘۔

اسلم بیگ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا تھا کہ ’مجھے سزا کس جرم کے لیے دی جا رہی ہے‘۔ سابق جنرل اسلم بیگ نے یونس حبیب کی جانب سے اپنے خلاف لگائے گے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بےقصور ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ہیں جو خود کو قانون سے بالا سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا ۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کچھ لوگ ہیں جو خود کو قانون سے بالا سمجھتے ہیں:جسٹس خلجی

اصغرخان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان افراد کے خلاف کارروائی کی جائے جو وردی پہن کر دھاندلی کرتے ہیں اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہ فوجداری عدالت نہیں ہے‘۔

اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت ان افراد کے خلاف کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو ہدایت دے یا پھر عدالت کوئی ڈیکلیریشن دے۔

اسلم بیگ اور اسد درانی کے بیانات کے بعد درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مقدمے میں ملوث سرکاری افسران نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جن بینکوں سے رقم لی گی اور جن میں رکھی گئیں ان کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔

عدالت نے مہران بینک کمیشن رپورٹ، یونس حبیب کے بیان کے مطابق حبیب بینک سے نکالی گی رقم کے حوالے سے مرتب کی گئی رپورٹ اور گزشتہ سماعت میں ریکارڈ کیے گئے اسد درانی اور اسلم بیگ کے اِن کیمرہ بیانات کو منظرِعام پر لانے سے متعلق اٹارنی جنرل انوارلحق سے کہا کہ وہ اگلی سماعت میں اس معاملے پرعدالت کی معاونت کریں۔

عدالت نے تمام فریقوں سے کہا کہ وہ بتائیں کہ وہ کیا فیصلہ چاہتے ہیں جس پر سلمان اکرم راجہ سے چار نکات عدالت میں پیش کیے اور کہا کہ ’عدالت ڈیکلیریشن دے کہ عسکری اداروں یا افواج کا کوئی بھی شخص اگر سیاسی عمل میں مداخت کرتا ہے یا پھر وہ ووٹ کی تقدیس کو کسی بھی حوالے سے مجروح کرتا ہے خواہ وہ پیسوں کی تقسیم سے کیا جائے تو پھر وہ آئین کی پامالی کا مرتکب ہے‘۔

اصغرخان کے وکیل نے اسلم بیگ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے کہا کہ اگر فوج ، آئی ایس آئی یا پھر ایم آئی کا سربراہ غیر قانونی طور پر اِس بہانے رقم لیتا ہے کہ اس نے جو بھی کیا اپنے سے بڑے افسر یا ادارے یا ملک کے سربراہ کے حکم پر کیا تو اسے مسترد کیا جائے اور حکم دیا جائے کہ سربراہ کی جانب سے غیرقانونی حکم کو جرم کا جواز بننا غیر قانونی ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے عدالت کے سامنے یہ بھی کہا کہ ’جن لوگوں نے پیسے لیے ہیں اور جنہوں نے دیے ہیں سب نے الیکشن فراڈ کا ارتکاب کیا ہے کیونکہ وہ ووٹ کے تقدس سے کھیلے ہیں اس لیے عدالت یہ فیصلہ دے کہ فنڈز لینا اور ان کو ظاہر نہ کرنا الیکشن فراڈ کے زمرے میں آتا ہے۔‘

سلمان اکرم راجہ نے آخر میں استدعا کی کہ ’ان تمام معاملات کے قانونی نکتے طے کرنے کے بعد حکومت پاکستان کو ہدایت کی جائے کہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے‘۔

اس سوال پر کہ آپ یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ اس مقدمہ میں ملوث دو افسران کے خلاف آپ کارروائی چاہتے ہیں لیکن آج چیف جسٹس کی جانب سے مشورہ کی تلقین کے بعد جب آپ نے اصغرخان سے مشورہ کیا تو بظاہر لگا کہ آپ اپنے موقف سے دستبردار ہو گئے ہیں تو سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’ایسا بالکل نہیں ہے یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ اگر عدالت دو بوڑھے فوجی افسران کو سزا نہیں دیتی ہے تو اس سے ملک کو کچھ نہیں ملے گا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آئینی فتح ہوگی اور میرے خیال میں ان افسران کو سزا ہونی چاہیے لیکن یہ فوجداری عدالت نہیں ہے‘۔

عدالت نے آئندہ سماعت چودہ مارچ تک ملتوی کر دی ۔

اسی بارے میں