سوئٹزرلینڈ کو بلوچستان کے مسئلے پر خط

دفتر خارجہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’دفتر خارجہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ اس مسئلے کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہ کیا جاسکے‘

پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے بلوچستان کے معاملے پر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی سرگرمیوں پر پاکستان میں سوئس سفارت خانے کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے جمعہ کو ہفتے وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ پچھلے ہفتے اسلام آباد میں سوئٹزرلینڈ کے سفارتخانے کو ایک مراسلہ بھیجا گیا۔

ترجمان سے پوچھا گیا تھا کہ ’سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور امریکہ سمیت دوسرے ملکوں کی سرزمینوں کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکی کانگریس میں بلوچستان کی صورت حال پر مذمتی قرارداد لائی جا چکی ہے جبکہ جنیوا میں علحیدگی پسند بلوچ ریلیاں منعقد کر رہے ہیں تو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا دفتر خارجہ کیا کررہا ہے؟‘

عبدالباسط کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اس صورت حال سے سیاسی طور پر نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم نے ان معاملات پر متعلقہ ممالک کو مراسلے بھیجے ہیں اور ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔ ہم نے پچھلے ہفتے ہی اس سلسلے میں اسلام آباد میں سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کو بھی مراسلہ بھیجا۔‘

اسلام آباد سے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا داخلی معاملہ ہے جس سے پاکستان اپنے آئینی اور سیاسی طریقے سے نمٹے گا۔

’میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ دفتر خارجہ اور ہمارے غیرملکی مشن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ اس مسئلے کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہ کیا جاسکے۔‘

جنیوا میں بلوچستان کے حق میں ریلیوں کے انعقاد کے بارے میں عبدالباسط کا کہنا تھا کہ جنیوا میں پاکستان کا سفارتی مشن متحرک ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اس معاملے کو اس طرح سے پیش نہ کیا جاسکے جس طرح پاکستان کے بعض منحرف لوگ پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے کچھ سال پہلے بلوچستان میں اپنا قونصل خانہ کھولنے کی درخواست کی تھی لیکن حکومت پاکستان نے اس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جیمز میٹس کے مجوزہ دورۂ پاکستان اور افغانستان میں نیٹو کی افواج کو سامان رسد کی فراہمی کے راستے دوبارہ کھولنے کے متعلق سوال پر ترجمان نے صرف اتنا کہا کہ اب تک جنرل میٹس کے دورہ پاکستان کی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

اسی بارے میں