بلوچستان: انسانی سمگلنگ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی بلوچستان کے راستے افغانستان سے ایران انسانی سمگلنگ کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔

کوئٹہ پولیس نےگزشتہ روزغیرقانونی طور پر ایران جانے کی کوشش میں دو سو پچاس افغان باشندوں کو حراست میں لے کر ان کے خلاف مقدمات قائم کر دیے۔

کوئٹہ پولیس نے نواحی علاقے میان غنڈی میں کوئٹہ سے ایران جانے والی دو مسافر بسوں میں چھاپہ مار کر ان میں سوار دو سو پچاس افغان باشندوں کو اتار کر مختلف تھانوں میں بند کر دیا۔

پولیس حکام کے مطابق یہ افغان باشندے نہ صرف غیرقانونی طور پرچمن کے راستے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے بلکہ بلوچستان کے راستے غیر قانونی طور پر ایران جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی کارروائی کے بعد ان افغان باشندوں کو تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا جائےگا جو ان سے مزید تفتیش کرے گی۔

کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سینکڑوں افغان باشندے ہر سال چمن سرحد کے راستے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد کوئٹہ سے مختلف انسانی سمگلروں کے ذریعے ایران جانے کی کوشش کرتے ہیں جن میں اکثر یا تو راستے میں پکڑے جاتے ہیں یا پھر ایرانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد انہیں واپس پاکستان کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

ان افغان باشندوں کو کوئٹہ کی مختلف عدالتوں سے غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے کے الزام میں تین ماہ تک قید کی سزا سنائی جاتی ہے اور سزا پوری ہونے کے بعد انہیں چمن کے مقام پرافغان حکام کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

کوئٹہ میں ایف آئی اے حکام کے مطابق ہر سال پانچ سے دس ہزار نوجوان پاکستان سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ انسانی سمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کو دس سے پندرہ لاکھ روپے بھی دیتے ہیں۔

حکام کےمطابق ایسے افراد بہت کم اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ زیادہ تر ایران، ترکی اور دیگر یورپی ممالک میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں یا پھر انہیں گرفتار کر کے واپس پاکستان بھیج دیا جاتا ہے۔

اگرچہ انسانی سمگلنگ کے اس کاروبار کے خلاف پاکستان میں کئی بار مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج بھی کیا ہے لیکن تاحال انسانی سمگلنگ میں ملوث ان ایجنٹوں کو سزائیں نہیں ملیں۔ حکام کے مطابق بہت سے ایجنٹ گرفتار ہوتے ہیں لیکن ثبوت اور گواہ نہ ہونے کے باعث عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں۔

سنہ دو ہزار نو میں کوئٹہ کےقریب ہزار گنجی کےمقام پرانسانی سمگلنگ کا ایک درد ناک واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب ایک ایجنٹ نے چمن شہر میں ساٹھ کے قریب افغان باشندوں کو ایک کنٹینر میں بند کر کے کوئٹہ روانہ کر دیا لیکن راستے میں کنٹینر کا ائیرکنڈیشن خراب ہونے کے باعث چالیس افغان باشندے راستے میں دم گھٹنے کے نتیجے میں ہلا ک ہوگئے تھے۔

اس واقعہ پر اس وقت پاکستان اور افغانستا ن میں نہ صرف تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی بلکہ دونوں ممالک کے اعلی حکام نے پاک افغان چمن سرحد پر انسانی سمگلنگ روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے فیصلہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان انسانی سمگلنگ میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا۔

اسی بارے میں