انسانی حقوق کمیشن کے قیام کا بل منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قومی اسمبلی نے ستائیس جنوری سنہ دو ہزار گیارہ کو انسانی حقوق کے کمیشن کا یہ بل منظور کیا تھا

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ نے جمعہ کو اتفاق رائے سے’نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس بل 2012 ‘ کی منظوری دے دی ہے۔

سینیٹ نے قومی اسمبلی کے منظور کردہ مسودے میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی ہیں اور انسانی حقوق کے کمیشن کے سربراہ کی بھرتی کی اہلیت اور انسانی حقوق کی تشریح سمیت مختلف نکات میں ترامیم کے ساتھ یہ بل منظور کیا ہے۔

سینیٹ سے منظور کردہ یہ بل اب قومی اسمبلی میں دوبارہ بھیجا جائے گا اور وہاں سے منظوری کے بعد صدرِ پاکستان کو دستخط کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس بل کے مسودے میں کمیشن کو فوج اور خفیہ اداروں کی حراست میں موجود افراد تک رسائی کے بارے میں متضاد باتیں موجود ہیں۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق بل میں ایک جگہ کہا گیا ہے کہ کمیشن کو فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے زیرِ حراست لوگوں تک رسائی دینے اور ان لوگوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہونے کی معلومات حاصل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

لیکن اس مسودے میں ایک اور جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں اور افواجِ پاکستان کے معاملے میں یہ کمیشن صرف وفاقی حکومت سے معلومات حاصل کر سکے گا۔

قومی اسمبلی نے ستائیس جنوری سنہ دو ہزار گیارہ کو انسانی حقوق کے کمیشن کا یہ بل منظور کیا تھا لیکن اس میں افواج پاکستان اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہاں زیر حراست افراد تک رسائی کا نکتہ واضح نہیں تھا۔

بل کے مطابق ’انسانی حقوق سے مراد کسی بھی شخص کی زندگی، آزادی اور وقار سے متعلق انفرادی عالمی قوانین کے تحت بشمول سیاسی اور خواتین کے حقوق ہیں‘۔

مسودۂ قانون کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے آزادانہ اور خود مختار کمیشن کا سربراہ انسانی حقوق کے بارے میں معلومات رکھنے والا ایسا شخص ہوگا جو سپریم کورٹ کا جج رہا ہو یا جج بننے کا اہل ہو جبکہ چاروں صوبوں، اسلام آباد، فاٹا، اقلیتوں سے ایک ایک رکن جنہیں انسانی حقوق کے معاملات میں وسیع تجربہ ہو مقرر کیا جائے گا۔

خواتین کے قومی کمیشن کی چیئرپرسن بھی اس کمیشن کی رکن ہوں گی۔ انسانی حقوق کمیشن کی کم از کم دو اراکین خواتین ہوں گی جبکہ کمیشن کے چیئرپرسن اور اراکین کی مدت چار سال ہوگی۔

کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کے لیے حکومت عوامی نوٹس جاری کرے گی اور وزیراعظم قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے تین نام پارلیمانی کمیشن کو بھیجیں گے جو چار اراکین پر مشتمل ہوگا جس میں دو سینیٹ اور دو قومی اسمبلی سے ہوں گے۔ چار اراکین ہر ایوان سے حکومت اور اپوزیشن سے برابر کی بنیاد پر نامزد ہوں گے اور قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں چاروں اراکین سینیٹ سے ہوں گے۔

انسانی حقوق کا یہ کمیشن یا ان کا مجاز شخص حکومت اور اس کی ایجنسیوں کے زیر کنٹرول کسی جیل، حراستی مرکز یا کسی ایسی جگہ جہاں سزا یافتہ، زیر سماعت قیدی، حراست میں لیے ہوئے یا رکھے گئے افراد تک ان کی حراست قانونی ہونے اور ان کے قانونی حقوق کے تحت ہونے والے سلوک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔

افواج پاکستان کے ہاں زیر حراست افراد کے انسانی حقوق کی شکایت کی صورت میں کمیشن خود سے یا کسی کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرے گی۔ رپورٹ ملنے کے بعد کمیشن وفاقی حکومت کو اپنی سفارشات بھیجے گی اور وفاقی حکومت تین ماہ کے اندر یا کمیشن کی طرف سے توسیع کردہ مدت کے اندر اس کا جواب دینے کی پابند ہوگی۔ کمیشن حکومتی جواب اور اپنی سفارش شایع کرے گی اور متعلقہ شخص یا ان کے نمائندے کو کاپی فراہم کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کمیشن ملک کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ازخود نوٹس لینے کا مجاز ہوگا

انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کام کے بارے میں کمیشن کو انکوائری کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے بارے میں کوئی شکایت موصول ہو تو کمیشن کا اختیار مجاز حکام کو شکایت بھیجنے تک محدود ہے اور مجاز حکام وفاقی حکومت کو قرار دیا گیا ہے۔

کمیشن کا صدر دفتر اسلام آباد میں ہوگا، چاروں صوبوں میں دفاتر قائم ہوں گے اور ضلعی سیشن عدالت انسانی حقوق کورٹ کے طور پر کام سرانجام دیں گی۔ تمام سرکاری ادارے کمیشن سے تعاون کے پابند ہوں گے اور کمیشن قانون سازی کے لیے سفارشات بھیجنے کا مجاز ہوگا۔ بیرون ممالک یا کسی عالمی تنظیم سے انسانی حقوق کے معاملے میں رابطوں سے پہلے کمیشن دفتر خارجہ کی مشاورت کا پابند ہوگا۔

کمیشن ملک کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ازخود نوٹس لینے یا کسی کی درخواست پر کارروائی کرسکےگا اور جیلوں کا دورہ کرنے اور قیدیوں کی فلاح کے لیے احکام جاری کرنے کا مجاز ہوگا۔

کمیشن کسی بھی فرد یا دفتر سے کوئی دستاویز یا اس کی کاپی طلب کرنے اور اس کا معائنہ کرنے کا مجاز ہوگا۔ریٹائرڈ سیکرٹری یا ایڈیشنل سیکریٹری اس کمیشن کا سیکریٹری مقرر ہوگا جو کمیشن کے پرنسپل اکاؤنٹ افسر بھی ہوں گے۔

کمیشن کے تمام احکامات کی تصدیق بھی سیکریٹری کریں گے۔ کمیشن کے چیئرمین، اراکین، مشیر، کنسلٹنٹس اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں کا تعین وفاقی حکومت کرے گی۔ کمیشن کو فنڈز حکومت مہیا کرے گی اور باقی ذرائع سے عطیات بھی حاصل کرسکے گا۔ لیکن بیرونی امداد وفاقی حکومت کی منظوری کے بنا حاصل نہیں کرسکے گا۔

کسی سرکاری ملازم کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث پائے جانے پر کمیشن متعلقہ مجاز حکام کو مقدمہ چلانے کا کہے گا اور وہ حکومت ایک ماہ کے اندر یا اس سے زیادہ مطلوبہ وقت کے اندر کارروائی کے پابند ہوں گے۔ وفاقی حکومت انسانی حقوق کے کمیشن کی سالانہ رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی اور کمیشن کی ویب سائٹ پر عوام کے لیے جاری کرے گی۔

واضح رہے کہ دسمبر انیس سو ترانوے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کے تحت تمام ممالک انسانی حقوق کمیشن قائم کرنے کے پابند ہیں اور تاحال دنیا کے چون ممالک نے کمیشن قائم کیے ہیں۔ اس کے مطابق ایشیاء میں بھارت سمیت تیرہ ممالک میں اس طرح کے کمیشن پہلے ہی قائم ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں