نوید شاہ کو نہیں جانتی تھی، رنکل کماری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

رنکل کماری عرف بی بی فریال نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مسلم ہونے سے پہلے نوجوان نوید شاہ کو جانتی نہیں تھی۔ اس سے پہلے وہ یہ کہہ چکی ہیں کہ انہوں نے نوید شاھ سے محبت کی شادی کی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ نے اغوا کے مقدمے میں رنکل کماری کو پیر کے روز عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ عدالت میں پیش ہونے سے ایک روز قبل رنکل اور نوید شاہ نے کراچی میں پریس کانفرنس کی، اس موقعے پر بھرچونڈی پیروں کے لوگ بھی موجود تھے۔

رنکل کا دعویٰ تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے، مگر اب ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ بقول ان کے وہ اپنی سہیلیوں سے اسلام کے بارے میں سنتی تھیں اور ٹی وی چینلز پر اسلامی پروگرام دیکھتی تھیں جس سے متاثر ہوکر انہوں نے مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

رنکل عرف بی بی فریال صحافیوں کو کسی ایک بھی اسلامی کتاب کا نام نہیں بتا سکیں جو انہوں نے پڑھی ہو، تاہم ان کا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے سورہ اخلاص پڑھی تھی۔ ان سے جب یہ سورۃ ترجمے کے ساتھ پڑھنے کو کہا گیا تو وہ اس کا جواب نہیں دے سکیں۔

رنکل کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھرچونڈی والوں کو ٹیلیفون کیا جو آکر اسے لے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے کلمہ پڑھا، جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں بھرچونڈی پیروں کا نمبر کس نے دیا تو رنکل کا کہنا تھا کہ ان کی ایک دوست نے دیا تھا۔

رنکل کماری کا دعویٰ تھا کہ وہ مسلم ہونے سے پہلے نوید شاہ کو نہیں جانتی تھیں، مسلم ہونے کے بعد انہوں نے نوید سے شادی کی۔ یاد رہے کہ رنکل کے والدین کی جانب سے دائر ایف آئی آر کے مطابق نوید شاہ اپنے ساتھیوں کی مدد سے رنکل کو لے گیا ہے۔

رنکل کماری سے تلخ سوال پوچھنے پر صحافیوں کے درمیان بحث شروع ہوگئی اور بعض صحافی رنکل کے موقف کی تائید کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو اسے تسلیم کرنے کی تلقین کرتے رہے۔

رنکل عرف فریال بی بی کا کہنا تھا کہ اس کا نوید شاہ کے ساتھ نکاح ہوچکا ہے، اس پر والدین خوامخواہ دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت میں بھی یہ بیان دیں گی کہ اسے دارالامان نہیں شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دی جائے۔

اسی پریس کانفرنس کے دوران بھرچونڈی پیروں کے خاندان کی مخصوص ٹوپی پہنے ہوئی ایک شخص نے ایک تحریری چٹ رنکل کے حوالے کی۔

نوید شاہ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ عدالت میں پیش ہونے سے پہلے عدالت پر اثر انداز نہیں ہو رہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہاں کیا کریں ان پر بہت دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

اس مختصر پریس کانفرنس کے موقعہ پر نوید شاہ کا کوئی رشتے موجود نہیں تھا۔ پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی مخصوص بھرچونڈی ٹوپی پہنی ہوئی شخص رنکل کو صحافیوں کے سامنے بازو پکڑ کر کھینچاتا ہوا باہر لے گیا، جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کون ہیں تو اس کا کہنا تھا کہ وہ بھائی ہیں ۔

بعض نیوز چینلز کے صحافیوں نے رنکل سے الگ بات کرنے کی کوشش مگر لڑکی کو ایک کار میں سوار کیا گیا جس کے آگے ایک پولیس موبائیل تھی اور یہ لوگ روانہ ہوگئے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی رنکل کماری کے مبینہ اغوا کا نوٹس لیا تھا اور اسے چھبیس مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ بھرچونڈی پیر مرضی سے بیاہ کے شدید مخالف رہے ہیں مگر رنکل اور نوید شاہ کے معاملے میں بھرپور حمایتی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

اسی بارے میں