التجا جو کبھی سنی نہیں گئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انسانی حقوق کمیشن کے وائس چیئرمین امرناتھ ایڈووکیٹ ایک ٹھنڈا مزاج رکھنے والی شخصیت ہیں مگر سنیچر کو ان کے اندر جیسے کوئی آتش فشاں پھٹ گیا ہو، جو مسلسل آگ برساتا رہا۔

سندھ سے ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغواء اور جبری شادی پر انسانی حقوق کمیشن کی پریس کانفرنس کے موقع پر انہوں نے کھل کر عدالتوں پر بےاعتمادی کا اظہار کیا۔

امرناتھ موٹو مل ایڈووکیٹ گزشتہ چالیس برسوں سے وکالت کر رہے ہیں، جس کے دوران انہوں نے ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا کے مقدمات کی بھی پیروی کی ہے اور ان کے لیے سپریم کورٹ تک گئے ہیں۔

سنیچر کو انہوں نے اپنے تجربات بیان کیے، جس میں صرف ایک ان کے لیے یادگار ہے۔

امرناتھ کے مطابق اس مقدمے میں ماتحت عدالت نے دو بچے ماں سے لے کر باپ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا جس کے خلاف انہوں نے اپیل دائر کی اور پھرجج نےجو فیصلہ دیا اس نے ان کے دماغ کو روشن کردیا۔

فیصلے میں جج نے کہا کہ ’اس عورت کو کیسے مسلمان مان لوں جو مسلم ہونے کے دائرے میں نہیں آتی کیونکہ ہندو سے شادی کے وقت اس نے اگنی کے سامنے سات پھیرے لیے تھے۔ اب وہ عورت وعدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ جو انسان وعدے کی خلاف ورزی کرے وہ اسلام کے دائرے میں نہیں آ سکتا۔‘

اس فیصلے کے بعد جج نے بچے والد کے حوالے کر دیے۔

اسی کے برعکس اور ایک مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عدالت میں ایک لڑکی پیش کی گئی جو دو بچوں کی ماں تھی۔ ’جب جج لڑکی کو بلا کر بیان ریکارڈ کرنے لگے تو میں نے درخواست کی کہ لڑکی چار ماہ کے بعد دستیاب ہوئی ہے خدارا اس کو کچھ عرصے کے لیے دارالامان بھیجیں مگر جج صاحب نے کہا آپ بیٹھ جائیں۔‘

امرناتھ کے مطابق بیان ریکارڈ کرنے سے پہلے جناب طارق صاحب نے لڑکی سے پوچھا کہ کلمہ پڑھنا آتا ہے لڑکی نے کہا ہاں، جج صاحب کے کہنے پر لڑکی نے کلمہ پڑھا جس کے بعد پھر سے لڑکی کو لے جانے کی استدعا کی لیکن انہیں پھر سے بیٹھ جانے کو کہا گیا۔

امرناتھ نے بتایا کہ پورا بیان ریکارڈ ہونے کے بعد انہوں نے نشاندہی کی کہ عدالت میں مولوی حضرات لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں تو جج نے مولوی سے وہاں موجودگی کی وجہ دریافت کی جس پر مولوی عدالت سے نکل گیا۔

’میں سوچتا رہ گیا کہ میں نے مولوی کو نکالنے کی استدعا نہیں کی تھی بلکہ غور کرنے کو کہا تھا کہ بچی اگر عدالت میں پیش ہوئی تو یہاں بھی اس کے سر پر مولوی کھڑا ہے مگر اس طرف توجہ نہیں دی گئی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جج کے لڑکی سے سوال پر کہ وہ کہاں جانا چاہتی ہے اور کیا اسے سوچنے کے لیے وقت چاہیے، انہوں نے پھر درخواست کی کہ برائے مہربانی اسے دارالامان بھیجیں تو پھر حکم ملا کہ آپ بیٹھ جائیے۔

’لڑکی کو سوچنے کے لیے دس منٹ دیے گئے اس دوران میں نے بہت کچھ کہا مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس لڑکی سے جھوٹے وعدے کیے گئے تھے کہ تم سپریم کورٹ میں بیان دے دو دونوں بچے تمہارے حوالے کر دیں گے۔ جب عدالت سے باہر نکلے تو لڑکی رو رہی تھی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی سے پچھلے دنوں مبینہ اغوا ہونے والی ڈاکٹر لتا کماری کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تھرڈ ایڈیشنل سیشن کورٹ نے ڈاکٹر لتا کے اغوا میں ملوث ملزم کی عبوری ضمانت منظور کی اور ساتھ میں والدین کو بھی نوٹس جاری کردیا۔ ’میں نے کہا کہ ضمانت کنفرم کرلیں ہمیں کیا مگر لتا کے والد نے کہا کہ لڑکی کو پیش کرکے اس کا بیان کرا دیں گے اور لڑکی ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل جائےگی‘۔

امرناتھ کے مطابق وہ مقررہ تاریخ پر دیر سے پہنچے مگر لتا کے والدین وہاں پہنچ گئے، لتا کی ماں اور باپ نے اٹھ کر لتا سے بات کرنے کی کوشش کی تو مولوی حضرات نے دھکا دیا یہ حالات دیکھ کر جج صاحب نے لڑکے لڑکی کو مولوی حضرات کے ساتھ ایک کمرے میں بھیج دیا اور کچھ دیر کے بعد ان کو چیمبر میں لے گئے۔

’کچھ دیر انتظار کیا اور بعد میں اندر گیا تو لڑکا اور لڑکی نہیں تھے صرف محترم جج صاحب بیٹھے تھے۔ میں نے انہیں گزارش کی کہ آج لڑکی آئی تھی اس کو پولیس کے حوالے کرنا تھا ضمانت تو لڑکے کو دینی تھی جج صاحب نے کہا پتہ نہیں لڑکی کہاں گئی۔‘

اس کے ساتھ اس بزرگ وکیل نے یہ کہہ کر اپنی بات مکمل کی کہ عدالتوں سے انہیں کوئی امید نہیں، عدالتیں انہیں کیا دیں گی، ’چار دن تو دے نہیں سکتیں۔‘

اسی بارے میں