پاکستان: لاپتہ ڈاکٹر میر عالم مری رہا

میر عالم تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میر عالم مری کو پیر کے روز اغوا کیا گیا تھا

سندھ کے لاپتہ قوم پرست رہنما ڈاکٹر میر عالم مری بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں، انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خفیہ اداروں کی حراست میں تھے۔

ڈاکٹر میر عالم مری نے میرپورخاص میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سنیچر کو انہیں سپر ہائی وے پر لونی کوٹ کے مقام پر چھوڑا گیا، اس سے پہلے انہیں کہا گیا کہ غلطی ہوگئی اٹھانا کسی اور کو تھا۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ پیر کو وہ حیدرآباد میں ایک ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ سول ڈریس میں پولیس کے ساتھ آنے والے لوگوں نے ان سے نام معلوم کیا اور حراست میں لے لیا، جس کے بعد ان کے چہرے پر کپڑا ڈال کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔

جئے سندھ قومی محاذ کے وائس چیئرمین کا کہنا ہے کہ انہیں ایک تاریک کمرے میں رکھا گیا جہاں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا. انہوں نے بتایا کہ ان کی جیب میں جئے سندھ قومی محاذ کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلے موجود تھے جو انہوں نے ایک کاغذ پر لکھے تھے۔

ان کے فیصلوں کے مطابق سندھ کے معدنی وسائل کی کھدائی فوری بند کرنے اور اس حوالے سے چین کو دیے گئے ٹھیکے منسوخ کرنے کے مطالبات بھی تحریر تھے، جس پر ان اہلکاروں نے اعتراض کیا اور الزام عائد کیا کہ انڈیا کے کہنے پر پڑوسی دوست ملک چین کے خلاف پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر کے مطابق دو روز تک انہیں نیلے رنگ کے کپڑے پہننے کو دیے گئے، اس کے بعد گوانتانامو بے کے قیدیوں جیسی یونیفارم پہنائی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ جمعے کی شب انہیں ہدایت کی گئی کہ اپنے کپڑے پہنو اور وضو کرکے نماز پڑھو۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ آج مار دیا جائے گا۔

فجر کی نماز پڑہنے کے بعد منہ پر کپڑے ڈال کر ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور ایک گاڑی میں ڈال دیا گیا، یہ گاڑی کئی گھنٹے کچی اور بعد میں پکی سڑک پر چلتی رہی۔ جس کے بعد سپر ہائی وے پر نوری آباد کے قریب گاڑی سے اتارا گیا اور ایک اہلکار نے کہا کہ ’غلطی ہوگئی بھائی صاحب، اٹھانا کسی اور کو تھا‘۔

ڈاکٹر میر عالم کے مطابق ان سے چھینا گیا سامان بھی واپس کردیا گیا۔ جس کے بعد وہ ایک گاڑی میں سوار ہوکر میرپورخاص پہنچے۔

دوسری جانب ڈاکٹر میر عالم مری کے ساتھ اٹھائے گئے راجہ داہر تیونو ابھی تک لاپتہ ہیں۔

اسی بارے میں