پشاور:جنازہ گاہ میں خودکش دھماکہ، چودہ ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارلحکومت پشاور کے نواحی علاقے میں ایک جنازے کے دوران خودکش دھماکے میں چودہ افراد ہلاک اور تینتیس زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس اہلکار عابد رحمان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ اتوار کو شہر سے کوئی پندرہ کلومیٹر دور جنوب کی جانب علاقہ بڈہ بیر میں یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ امداد خان نامی ایک مقامی قبائل کی اہلیہ کا نماز جنازہ ادا کر ہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس خودکش دھماکے میں چودہ افراد ہلاک جبکہ تینتیس زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم زخمیوں کو مقامی لوگوں نے پشاور منتقل کردیا ہے اور ان میں سات کی حالت تشویش ناک ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان درہ آدم خیل نے قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان محمد بی بی سی کو بتایا حملے کا ہدف خیبر پختونخواہ اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر خوش دل خان تھے جو محفوظ رہے۔

پولیس کے مطابق خود کش حملہ آور پیدل تھا اور اس نے جنازہ گاہ میں داخل ہو کر نماز ادا کرنے والوں کے عین سامنے خودکش دھماکہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کی عمر پچیس سال سی زیادہ نہیں تھی۔

تاہم پولیس نے خود کش حملہ آور کے جسم کے اعضا اپنے قبضے میں لے لیے ہیں اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد جنازہ گاہ میں بھاگ دوڑ مچ گئی اور کئی لوگ اس میں بھی زخمی ہوئے۔

یاد رہے کہ بڈہ بیر میں اس سے پہلے بھی عام شہریوں پر حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داریاں اکثر اوقات تحریک طالبان نے قبول کی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک سکول بس پر بھی حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں دو درجن سے زیادہ بچے زخمی ہوگئے تھے۔ طالبان کا موقف ہے کہ بڈہ بیر کے لوگ حکومت کے حامی ہیں اور انہوں نے طالبان کے خلاف لشکر بنا رکھے ہیں۔

اسی بارے میں