’کسی سے بھی ایڈوائس نہیں لی جائے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سوئس عدالت کو خط لکھنے کا فیصلہ پاکستان کے آئین کے مطابق کیاجائے گا اور اس سلسلے میں کسی سے بھی ایڈوائس نہیں لی جائے گی۔

اتوار کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ ان کے یعنی پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف ماضی میں سازشیں ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی لیکن وہ اپنے فرائض بڑے بہترین انداز میں انجام دے رہے ہیں۔

نامہ نگار علی سلمان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ ضمنی اور سینیٹ کے انتخابات روکنے کے لیے سازشیں کی گئیں لیکن اس کے باوجود ان کی جمہوری حکومت نے ضمنی انتخابات بھی کرائے اور سینٹ کے انتخابات بھی ہوئے۔

وزیراعظم کو کہا گیا کہ پاکستان عدلیہ نے انہیں کسی کی ایڈوائس کے بغیر ہی سوئس عدالت کو خط لکھ دینے کا کہا ہے تو وزیر اعظم نے معنی خیزانداز میں کہا کہ کیا ان کا مطلب ہے کہ کسی اور ایڈوائس پر خط نہ لکھا جائے بلکہ ان کی ایڈوائس پر لکھا جائے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میڈیا نے دوالگ الگ مقدمات کو آپس میں ملا دیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مہران بنک کیس کی سماعت بہت پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ جنہیں اس مقدمہ میں سازش نظرآ رہی ہے وہ سن لیں کہ ہمارے خلاف تو بہت پہلے سے سازش ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ سب سے طویل عرصہ رہنے والے جمہوری وزیرا عظم ہیں اور یہ واحد جمہوری حکومت ہے جو پانچواں بجٹ پیش کرے گی۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ صدر مملکت سترہ مارچ کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے اور منتخب صدر کا مسلسل پانچویں بار خطاب ان کی حکومت اہم کارنامہ ہے۔

اسی بارے میں