’مہم کامیاب نہ ہوئی تو پولیو پر قابو پانا مشکل‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک سو اضلاع میں چلنے والی اس مہم میں ساٹھ ہزار سے زائد ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، بیگم شہاز وزیر علی

پاکستان میں پیر سے تین روزہ پولیو سے بچاؤ کی مہم کا آغاز ہوا ہے اور اس موقع پر وزیراعظم کی معاونِ خصوصی بیگم شہناز وزیر علی نے کہا ہے کہ اگر یہ مہم کامیاب نہ ہوئی تو اپریل کے بعد اس مرض کے پھیلاؤ پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا۔

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کی’فوکل پرسن‘ اور معاون خصوصی بیگم شہناز وزیر علی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی حکومت اور بل گیٹس فاؤنڈیشن نےاس مہم کے لیے دو کروڑ ستر لاکھ پولیو کی ویکسینز فراہم کی ہیں۔

’پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ نقل مکانی‘

انہوں نے پولیوکی عالمی سطح پر مانیٹرنگ کرنے والے ادارے کے اس تاثر سے اتفاق کیا کہ اگر موجودہ مہم کامیاب نہیں ہوئی تو اپریل کے بعد پاکستان میں پولیو تیزی سے پھیل سکتا ہے اور اس پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا۔

بیگم شہناز وزیرعلی نے کہا کہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورت حال، چند مولوی حضرات کی جانب سے پولیو مہم کے خلاف فتوے جاری کرنے، عوام میں آگہی کی کمی اور ضلعی سطح پر قطرے پلانے کی مہم کا مؤثر نظام نہ ہونا، پاکستان سے پولیو کے خاتمے میں رکاوٹ کے اہم اسباب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے حال ہی میں ایک علماء کانفرنس میں پولیو کے حق میں تمام مکاتب فکر کے علماء سے فتوے لیے ہیں اور خانۂ کعبہ کے امام نے بھی پولیو کے قطرے پلانے کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں پولیو کا خاتمہ ہوچکا ہے کیونکہ انہوں نے خود مؤثر مہم چلائی۔

پاکستان کے صوبۂ سندھ کے سوا ملک بھر میں تین روزہ پولیو بچاؤ مہم شروع ہوئی ہے جس میں دو کروڑ پینتیس لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

وزیراعظم کی معاونِ خصوصی نے بتایا کہ ایک سو اضلاع میں چلنے والی اس مہم میں ساٹھ ہزار سے زیادہ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ان کے بقول وزارتِ صحت اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہوگئی ہے اور وفاقی حکومت کا کام پولیو ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانا اور رابطے کو مؤثر بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض ممالک کی طرح پاکستان میں بچوں کے داخلے کے وقت پولیو کے قطرے پلانے کا سرٹیفکیٹ طلب کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ان کے بقول پاکستان میں گزشتہ برس ایک سو اٹھانوے پولیو کے کیسز سامنے آئے اور رواں برس تاحال پولیو کے بارہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

پاکستان میں پولیو کے قومی رابطہ کار ڈاکٹر الطاف بوسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ میں لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور انہیں مستقل نہ کیے جانے کی وجہ سے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم میں تاخیر ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کی حکومت نے یہ معاملہ طے کرلیا ہے اور وہاں پولیو کے قطرے پلانے کی مہم چودہ سے سولہ مارچ تک چلائی جائے گی۔

ڈاکر الطاف بوسن کے مطابق فاٹا، بلوچستان اور سندھ میں تینتیس اضلاع ایسے ہیں جو اس وقت پولیو کے اعتبار سے ’ہائی رسک‘ قرار دیے گئے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت جیسے ملک میں تو پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو رہا تو انہوں نے کہا کہ وسائل کی کمی نہیں تاہم ضلعی سطح پر عملدرآمد کا جو مکینزم ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔

انہوں نے اس تاثر سے اتفاق کیا کہ نچلی سطح پر بدعنوانی اور اس کو اہمیت نہ دینا بھی پولیو ختم نہ ہونے کی وجوہات میں شامل ہیں۔

بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کے پاکستان کے لیے قومی افسرِ صحت ڈاکٹر شہاب ہاشم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قومی اور صوبائی سطح پر تو پولیو کے خاتمے کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں لیکن ان کا اثر نچلی سطح پر پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔

نامہ نگار احمد رضا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوشش یہی ہے کہ پولیو کے خاتمے کی مہم نچلی سطح پر بھی کارگر ہو۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالات بہت نازک حالات ہیں۔ پولیو کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک موثر مہم کی ضرورت ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس مرض کو کنٹرول کرنے میں شدید دشواری ہو جائےگی۔

اسی بارے میں