سینیٹ: نیر بخاری اور صابر بلوچ نے حلف اٹھا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیر کو سینیٹ کے خصوصی اجلاس میں چوّن نو منتخب سینیٹرز نے حلف اٹھایا

حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید نیر حسین بخاری اور صابر بلوچ پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے نئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔

ان دونوں اراکین نے پیر کو سیکرٹری سینیٹ کے پاس ان عہدوں کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے تھے اور پیر کو ہی ان کا انتخاب عمل میں آیا۔

نیر بخاری اور صابر بلوچ کے مقابلے میں کسی اور جماعت نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا اس لیے وہ بلامقابلہ ہی اپنے عہدوں پر منتخب ہوئے ہیں۔

ان کی کامیابی کا باضابطہ اعلان پیر کی سہ پہر سینیٹ کے اجلاس میں کیا گیا جس کے بعد اجلاس کی صدرات کرنے والے سینیٹر افراسیاب خٹک نے نیر بخاری سے اور بعد ازاں نیر بخاری نے ڈپٹی چیئرمین صابر بلوچ سے حلف لیا۔

نیر بخاری موجودہ چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک جبکہ صابر بلوچ نائب چیئرمین جان محمد جمالی کی جگہ لیں گے اور ان کے عہدے کی مدت تین سال ہوگی۔

اس سے قبل پیر کی صبح سینیٹ کا خصوصی اجلاس افراسیاب خٹک کی صدارت میں شروع ہوا تو پارلیمان کے ایوان بالا کے نو منتخب چوّن ارکان نے حلف اٹھایا۔

حلف اٹھانے کے بعد ان ارکان نے باری باری ‘رول آف ممبرز‘ پر دستحظ کیے۔ دستخط کے لیے پہلے عبدالحفیظ شیخ کو اور آخر میں سردار ذوالفقار کھوسہ کو بلایا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید سرخ رومال گلے میں ڈال کر ایوان میں آئے۔

ان چوّن اراکینِ سینیٹ میں اقلیتی نشستوں پر منتخب ہونے والے چار سینیٹرز بھی شامل ہیں جن کا انتخاب اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے۔

اسی اجلاس میں سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے محمد اسحٰق ڈار کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر بھی اتفاق ہوا۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ نواز سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔

خیال رہے کہ دو مارچ کو ایوانِ بالا کے انتخابات میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی انیس نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ سرفہرست رہی تھی اور ان انتخابات کے بعد سینیٹ میں اس کے ارکان کی تعداد اکتالیس ہوگئی ہے۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق اجلاس کے موقع پر سینیٹ کی گیلریاں پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں اور انہوں نے بھرپور انداز میں تالیاں بجائیں اور’شیروں کا شکاری، زرداری، خطروں کا کھلاڑی زرداری، اگلی باری پھر زرداری اور زرداری تیرا ایک اشارہ حاضر حاضر لہو ہمارا‘ جیسے نعرے لگائے۔

ایوان میں نعرہ بازی پر مسلم لیگ (ن) کے سید ظفر علی شاہ نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ ایوان کی توہین ہے تاہم کارکنوں نے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا جس پر ظفر علی شاہ احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔

بعد ازاں چیف وہپ اسلام دین شیخ نے کارکنوں کو نعرے بازی سے منع کیا لیکن اس کے باوجود بھی وقفہ وقفہ سے نعرے لگتے رہے۔ کچھ مواقع پر سکیورٹی اہلکار نعرے لگانے والوں کے منہ پر ہاتھ رکھ کر انہیں نعرہ بازی روکتے رہے۔

سندھ سے نو منتخب سینیٹر سعید غنی نے حلف اٹھانے کے بعد جب روسٹرم پر دستحظ کرنے گئے تو انہوں نے وہاں بھی جیے بھٹو کا نعرہ لگادیا۔

سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بعد مولانا عبدالغفور حیدری، بابر غوری، فرحت اللہ بابر، حاصل بزنجو، مظفر شاہ، حاجی عدیل، جہانگیر بدر، چوہدری شجاعت حسین اور دیگر نے نو منتخب سینیٹرز، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پورے ایوان نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو منتخب کیا ہے۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ سینیٹ کے انتخاب سے پہلے الیکشن رکوانے کے لیے سازشیں ہوئیں لیکن صدر آصف علی زرداری نے بردباری اور حوصلے سے کام لیا اور الیکشن کروائے جس پر وہ انہیں مبارکباد دیتے ہیں۔

اسی بارے میں