انتخابی سامان کی خریداری کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے الکیشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات سے پہلے بر وقت انتخابی سامان کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ کمیشن کے منگل کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

منگل کو اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں کمیشن کے چاروں اراکین اور سیکرٹری کے علاوہ دیگر حکام نے شرکت کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آئیندہ عام انتخابات کے پیشگی انتظامات کے ضمن میں الیکشن کمیشن نے انتخابی سامان کی بروقت خریداری کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا۔

اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ الیکشن ٹریبیونلز کے لیے ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اور سیشن جج مقرر کیے جائیں گے تا کہ انتخابی تنازعے روزانہ کی سماعت کی بنیاد پر ایک سو بیس دن کے مقررہ مدت میں حل کیے جا سکیں۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق الیکشن کمیشن نے یہ فیصلے ایک ایسے مرحلے پر کیے جب عام انتخابات کو ابھی تقریباً ایک سال باقی ہے۔

بیان کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی سیاسی جماعت متحدہ مسلم لیگ سمیت گیارہ سیاسی جماعتوں کو ان کی ترجیحات کے مطابق انتخابی نشانات بھی الاٹ کیے گیے۔

بیان کے مطابق سابق فوجی صدر کی سیاسی جماعت متحدہ مسلم لیگ کو بس کا نشان الاٹ کیا گیا، پاکستان فاطمہ جناع مسلم لیگ کو بارہ سنگھ، جمعیت علماء اسلام نورانی کو پنکھا، عوامی جسٹس پارٹی کو پیالہ، سندھ دوست پارٹی کو مکان، اتحاد عالم اسلام گلدان ، عوامی تحریک کو سیٹی، بہالپور نیشنل پارٹی کو بیل گاڑی، سندھ ترقی پسند پارٹی کو ٹیلی ویژن جبکہ جماعت پاکستان پارٹی کو فوارہ الاٹ کیا گیا ہے۔ اللہ اکبر تحریک نامی جماعت کو بندوق کا نشان دیا گیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں نئی پندرہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے جمع کرائے گیے کاغذات کو سیاسی جماعتوں کے قانون 2002 کے عین مطابق پایا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے یہ ہدایت کی ان جماعتوں کو قانون کے مطابق ریکارڈ کے لیے محفوظ کیا جائے۔

اسی بارے میں