سٹی کورٹ کے ججوں کی ہڑتال

سندھ ہائی کورٹ فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جج صاحبان نے کام کرنے سے انکار کردیا اور سارا دن عدالتوں میں معمول کا کام نہیں ہوسکا

کراچی میں ایک جوڈیشل میجسٹریٹ سے وکلاء کی مبینہ بدتمیزی کے خلاف بدھ کو سٹی کورٹ کے تمام جج صاحبان نے ہڑتال کی ۔

اس واقعے کا پس منظر یہ ہے کہ منگل کے روز ایک جوڈیشل میجسٹریٹ ملک محمد اختر نے ایک خاتون وکیل زیبا اور ان کے شوہر کو دھوکا دہی کے ایک مقدمہ میں دو سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے بعد کچھ وکلاء نے ان کے خلاف احتجاج کیا اور ان سے بدکلامی بھی کی۔ بعد ازاں خاتون کی ضمانت منظور ہوگئی۔

اس واقعے کو بنیاد بنا کر بدھ کو تمام جج صاحبان نے کام کرنے سے انکار کردیا اور سارا دن عدالتوں میں معمول کا کام نہیں ہوسکا۔

کراچی کے مختلف علاقوں سے مقدمات کے سلسلے میں آئے ہوئے افراد عدالت کے احاطے میں پریشان پھرتے دکھائی دیے خاص کر وہ افراد جو ضمانت یا اسی قسم کے معاملات کے سلسلے میں آئے تھے۔

کورنگی کے رہنے والے محسن علی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ صبح نو بجے سے اپنے بھائی کی ضمانت کے لیے آئے ہوئے ہیں مگر جج موجود نہیں اس لیے کارروائی نہیں ہوسکی۔

ایک اور صاحب اپنے بچوں کی ضمانت کے لیے آئے ہوئے تھے ان کا شکوہ بھی یہی تھا کہ جج موجود نہیں اس لیے ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔

رخسانہ نام کی ایک خاتون جن کا تعلق بڑا بورڈ کے علاقے سے ہے انہوں نے بتایا کہ وہ صبح سے اپنے بیٹے کی ضمانت کے لیے پریشان بیٹھی ہیں۔

اس سارے معاملے پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری خالد ممتاز کا کہنا تھا کہ ’منگل کو خاتون وکیل زیبا اور ان کے شوہر کو جو سزا سنائی گئی تھی اس کے بعد انہوں نے عدالت کے دروازے بند کردیے تھے اور وکلاء سے بات نہیں کی جس پر یہ مسئلہ پیدا ہوا اور بدھ کو احتجاجاَ َ کچھ ججز نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر نے اجلاس بلایا جس میں کراچی کورٹ بار کے اراکین اور ججز پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جس میں چاروں ڈسٹرکٹ کے ججز اور کراچی بار کے صدر اور سیکریٹری کے علاوہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار بھی شامل ہیں جو اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔

ان کا دعوٰی تھا کہ اب عدالتوں نے کام شروع کردیا ہے اور سب سے پہلے اہم نوعیت کے معاملات نمٹائے جا رہے ہیں۔

تاہم ان کے اس دعوے کے باوجود یہ دیکھا گیا کہ کسی بھی عدالت میں جج موجود نہیں تھے اور استفسار پر ان کا عملہ کہتا تھا کہ وہ ہائی کورٹ گئے ہوئے ہیں اور معلوم نہیں کہ کب واپس آئیں گے۔

اس وقت تک بیشتر سائل نئی تواریخ لے کر جاچکے تھے اور وہاں وکلاء ہی موجود تھے۔

اسی بارے میں