پاکستان:’اقلیتی خواتین کی صورتحال تشویشناک‘

پاکستان ہندو خواتین تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

قومی کمیشن برائے امن و انصاف کے زیر اہتمام ایک تقریب میں اقلیتی خواتین کو پاکستانی معاشرے میں لاحق مسائل کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ ’خط زندگی سے نیچے‘ پیش کی گئی۔

اس تحقیقاتی رپورٹ میں اقلیتی خواتین کی سماجی سیاسی اور معاشی صورتحال کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ تحقیق سندھ اور پنجاب کے چھبیس اضلاع میں کی گی ہے اور اس میں ایک ہزار ہندو اور مسیحی خواتین کے انٹرویوز کئے گئے۔

لاہور سے نامہ نگار مناء رانا نے بتایا کہ اس رپورٹ میں اقلیتی خواتین کو در پیش مسائل کے ساتھ ساتھ ان کو حل کرنے کے حوالے سے بھی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملازمت یا مزدوری کے لیے نکلنے والی اقلیتی خواتین میں سےچھہتر فیصد کو جنسی طور پر حراساں کیا جاتا ہے ۔جبکہ تینتالیس فیصد خواتین نے تعلیمی اداروں اور آبادیوں میں مذہب کی بنیاد پر متعصبانہ سلوک کی شکایت کی۔

قومی کمیشن برائے امن و انصاف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب نےکہا کہ دراصل اقلیتی خواتین کی صورتحال تحقیقات سے حاصل کردہ نتائج سے زیادہ تشویش ناک ہے انہوں نے کہا کہ اقلیتوں میں خوف اور بے بسی کا عالم ہے اور وہ بعض اوقات اسی خوف کے باعث اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر پاتے کہ کہیں وہ مزید تعصب کا شکار نہ بن جائیں۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کی تقریب رونمائی پر انسانی حقوق پر کام کرنے والی کئی اہم شخصیات نے اظہار خیال کرتے ہوئے اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور ملک میں اقلیتوں کے حوالے سے موجود قوانین پر کڑی نقطہ چینی کی اور ان کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا۔

مقررین نے ملک میں عیسائیت کے علاوہ دیگر مذاہب کے لیے شادی کو قانونی حیثیت حاصل نہ ہونے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ہر مذہب کے لیے ایک جیسے قوانین کو لازمی کیا جائے اور ہندو سکھ اور دیگر مذاہب کو بھی شادی کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

معروف سماجی کارکن اور قانونی ماہر حناء جیلانی نےمعاشرے میں جبراً مذہب کی تبدیلی اور اقلیتی خواتین کے ساتھ زبردستی شادی کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے معاملات پر معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

شرکاء نے توہین رسالت کے قانون پر بھی اپنے خدشات ظاہر کیےاور کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ توہین رسالت کے قانون کا نشانہ اکثر مسلمان بنتے ہیں لیکن اس قانون کے سبب غیر مسلم خود کو زیادہ غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ پاکستان کے وجود کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان میں مسلمان ایک بڑی اقلیت تھے اور اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے انہوں نے پاکستان حاصل کیا لیکن آج اسی ملک میں اقلیتوں کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں