ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن کے ٹینڈر جاری

گیس پائپ لائن: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption کہا جا رہا ہے کہ پائپ لائن کا منصوبہ سنہ دو ہزار چودہ تک مکمل ہو جائے گا

پاکستان کے پیٹرولیم کے وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ایران ۔ پاکستان گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے ٹینڈر جاری کر دیے گئے ہیں اور ایک ماہ میں اس پر پیش رفت ہوگی۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بتائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان سے توانائی کا بحران کم کرنے میں مدد دے گا۔ ان کے بقول یہ منصوبہ سنہ دو ہزار چودہ میں مکمل ہوجائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں گیس کی پیداوار چار اعشاریہ دو بلین کیوبک فٹ ہے جبکہ ضرورت آٹھ بلین کیوبک فٹ کی ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ چین کے بینک کی جانب سے ایران ۔ پاکستان گیس پائپ لائن کے لیے پیسے فراہم کرنے سے معذرت ظاہر کرنے کے معاملے کو وفاقی وزیر نے غیر اہم ہونے کا تاثر دیا اور کہا کہ ان کے پاس مناسب مقدار میں فنڈز موجود ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ماضی میں پنجاب کے اندر گیس سٹیشن قائم کرنے کے ساڑھے تین ہزار اور سندھ میں گیارہ سو لائسنس جاری کیے گئے۔ پنجاب میں پانچ سو گیس سٹیشن حکومت نے بند کیے تو لاہور ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کر دیا۔

وزیر کے مطابق گیس سٹیشنز نے منظور کردہ حد سے زیادہ طاقت والے کمپریسر لگا رکھے ہیں جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کو گیس کے دباؤ میں کمی کا سامنا ہے اور ایسے سٹیشن کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پابندی کے باوجود موجودہ حکومت کے دور میں ’اوگرا‘ نے جو نئے گیس سٹیشن قائم کرنے کے لائسنس جاری کیے ہیں ان کی تحقیقات ہو رہی ہے۔

پیٹرولیم کے وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے پیٹرولیم کے شعبے کا گردشی قرضہ ستر ارب اٹھاون کروڑ ساٹھ لاکھ روپے تھا جو اب بڑھ کر تین سو چھیانوے ارب اڑسٹھ کروڑ چالیس لاکھ روپے ہو چکا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار ملین ٹن کوئلے کے ذحیرے ہیں جس میں سے صرف سندھ میں ایک لاکھ پچاسی ہزار ملین ٹن سے زائد ذخائر ہیں۔ جبکہ ملک بھر سے تقریباً چونتیس لاکھ ٹن کوئلے کی پیداوار ہے۔

وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر قانون مولا بخش چانڈیو نے بتایا کہ سات سو بیاسی خواجہ سراؤں کے ووٹ نئی ووٹر لسٹ میں درج ہیں اور جو بھی کمپیوٹرائیزڈ شناختی کارڈ رکھے گا اور ووٹ درج کرائے گا اسے ووٹ کا حق ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں گزشتہ برس سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے مردم شماری میں تاخیر ہوئی اور مردم شماری کے بعد ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئے سرے سے حلقہ بندیاں ہوں گی۔

وزیر دفاع نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن نے کوئی طیارہ نہیں بیچا ہے۔ ان کے بقول ’پی آئی اے‘ کے پاس انتالیس طیارے لیز پر ہیں اور مزید طیارے حاصل کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں