لکی مروت کے چار سکولوں میں دھماکے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں سکولوں پر حملوں کا سلسلہ پانچ سال سے جاری ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع لکی مروت اور نوشہرہ میں حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے چار سکولوں کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔ ان دھماکوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

پولیس کے مطابق جنوبی ضلع لکی مروت میں نامعلوم افراد نے چار سکولوں میں بارود سے بھری بالٹیاں رکھیں تھیں جن کے ساتھ ڈیٹونیٹر اور ٹائمر نصب تھے۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ شہر کے قریب ڈوڈہ کے مقام پر دو پرائمری سکول اور گورنمنٹ مڈل سکول زیڑ جانو کی عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

ان سکولوں میں ایک ایک کمرہ اور برآمدے ڈھ گئے ہیں جب کہ گورنمنٹ ہائی سکول مندرہ خیل میں نصب بارودی مواد کو ناکارہ کر دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے ان سکولوں میں مزید بارودی مواد تھا جسے ناکارہ کرکے تحویل میں لے لیا گیا ہے اور اس کا کل وزن کوئی پینتیس کلو گرام بتایا جاتا ہے۔

لکی مروت میں پہلی مرتبہ ایک ہی رات میں اتنی تعداد میں سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تحریک طالبان ضلع لکی مروت کے ترجمان نے اپنی تنظیم کی طرف سے ان حملوں کی ذمہ داری سے قبول کی ہے۔

اس کے علاوہ پشاور کے قریب ضلع نوشہرہ میں بھی ایک سکول میں رات کے وقت دھماکہ کیا گیا ہے جس سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں سکولوں پر حملوں کا سلسلہ پانچ سال سے جاری ہے۔ اس سے پہلے قبائلی علاقوں میں سکولوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن اب شہری علاقوں میں بھی سکولوں میں دھماکے کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں