پاکستانی پارلیمان کا اتار چڑھاؤ کا سال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس بار جمہوری نظام کو بچانے کا کریڈٹ پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کو جاتا ہے

موجودہ پاکستانی پارلیمان کا چوتھا سال سترہ مارچ کو مکمل ہو رہا ہے اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پہلے شحض ہیں جنہوں نے ملکی تاریخ میں طویل عرصہ وزیراعظم رہنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔

موجودہ پارلیمان کا چوتھا سال ایک تاریخی سال کی حیثیت رکھتا ہے جو اتار چڑھاؤ کے واقعات سے بھرپور سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ چوتھے پارلیمانی سال میں حکومت کے عدلیہ اور فوج سے تعلقات ایسے بگڑے کہ کمزور جمہوری نظام ایک بار پھر لڑ کھڑانے لگا۔

لیکن سیاستدانوں نے حسب روایت سیکورٹی اسٹیبلشمینٹ کو اپنا کندھا پیش نہیں کیا۔ بلکہ ایسی آنکھیں دکھائیں کہ سیکورٹی اسٹیبلشمینٹ کو میمو گیٹ کے جال میں پھنسا ہوا شکار چھوڑنا پڑا۔

اس بار جمہوری نظام کو بچانے کا کریڈٹ پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کو جاتا ہے کیونکہ انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ انہیں کوئی غیر آئینی تبدیلی قبول نہیں ہوگی۔

چوتھے پارلیمانی سال میں حکومت اور اپوزیشن نے مل کر بیسویں آئینی ترمیم منظور کی، جس میں ملکی تاریخ میں پہلی بار غیر جانبدار نگران حکومت قائم کرنے اور الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے کے نکات شامل ہیں۔

نگران وزیراعظم اور کابینہ، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے اتفاق رائے سے مقرر ہوں گے اور ان کے درمیاں اختلاف رائے کی صورت میں اختیار الیکشن کمیشن کو دیا گیا ہے جوکہ دنیا میں اپنی طرز کی ایک منفرد مثال ہے۔

دو مئی سنہ دوہزار گیارہ کو جب امریکی افواج نے ایبٹ آباد میں دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب شخص اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تو ایک ہنگامہ بپا ہوگیا۔ حکومت اور فوج میں کشیدگی بڑھی لیکن حکومت نے فوجی قیادت کو پارلیمان کے سامنے جوابدہ کیا، جہاں انہیں تیز و تند سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ آئی ایس آئی کے سربراہ نے مستعفی ہونے اور خارجہ پالیسی پارلیمان کو بنانے کی پیشکش بھی کی۔

حکومت نے ایبٹ آباد کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا اور کہا کہ یہ معلوم کریں کہ اسامہ بن لادن کب اور کیسے پاکستان آئے تو حکومت اور فوج میں تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے اور ‘متنازع میمو‘ کا معاملہ سامنے آیا۔ دوسری طرف عدلیہ اور میڈیا کے فورمز پر بھی حکومتی گردن ایسی دبوچی ہوئی نظر آئی کہ بہت سوں کو یقین ہو چلا تھا کہ فوجی مداخلت صبح ہوئی کہ شام ہوئی۔

لیکن بظاہر دبوچی ہوئی گردن والے کمزور سیاسی حکومت کے سربراہ سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمان کا فورم استعمال کرتے ہوئے دھمکی دی ’ریاست کے اندر ریاست نہیں بننے دیں گے۔۔۔ تمام ادارے پارلیمان کے ماتحت اور جوابدہ ہیں، اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔۔۔ اسامہ بن لادن کس ویزے پر پاکستان آیا؟‘۔

’کرو یا مرو‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے جو وزیراعظم گیلانی کے ذریعے پارلیمان کے فورم پر جو یہ پتہ کھیلا، اس نے ان کی بظاہر ہاری ہوئی بازی پلٹ دی۔ جس کے بعد انہوں نے ایک بار پھر مصالحت کی چٹنی ایسے کمال فن سے بیچی کہ جہاں ڈگمگاتے ہوئے جمہوری نظام کو سہارا ملا وہاں اپنی حکومت کو بھی توانا کردیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمان کا فورم استعمال کرتے ہوئے دھمکی دی ریاست کے اندر ریاست نہیں بننے دیں گے

موجودہ حکومت نے گزشتہ برس سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو اور امریکی افواج نے جو حملہ کیا، اس سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہوئے اور پارلیمان نے ایک سپر پاور سے ٹکر لیتے ہوئے جہاں نیٹو سپلائی بند کردی وہاں شمسی ایئر بیس بھی خالی کرادیا۔ پاکستان جیسے کمزور پارلیمان کا یہ فیصلہ بھی تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔

ماضی کے تین پارلیمانی برسوں کی طرح چوتھے برس میں بھی تمام قوانین اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر پاس کیےگئے۔ قومی اسمبلی میں رواں پارلیمانی سال میں اٹھائیس اور سینیٹ میں تقریبا سینتیس قانون پیش منظور ہوئے۔ جس میں صوبوں کو بجلی گھر قائم کرنے، صارفین کے حقوق، انسانی حقوق کمیشن، خواتین کے حقوق سمیت متعدد قوانین اور بیسویں آئینی ترمیم منظور کیے۔

موجودہ پارلیمانی سال کا ایک اہم واقعہ دو مارچ کو سینیٹ کے انتخابات کا انعقاد بھی ہے۔ جس کے بارے میں اپوزیشن، عدلیہ اور میڈیا کے فورمز پر جو سرگرمیاں ہوئیں اس سے تو بظاہر یقین ہو چلا تھا کہ مارچ میں سینیٹ کے الیکشن موجودہ اسمبلیوں سے نہیں ہوں گے۔ لیکن یہ پُل بھی حکومت آسانی سے پار کر گئی۔

لیکن حکومت ہو یا پارلیمان اس کی اس سال کی سب سے بڑی ناکامی اگر دیکھی جائے تو وہ ہے مہنگائی کے طوفان پر قابو نہ پا سکنا۔ حکومت اس کا جو بھی عذر پیش کرے لیکن انہیں اپنے آخری پارلیمانی سال میں عوام کو بھرپور رلیف دینا ہوگا جو کہ ان کے لیے ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں۔

اسی بارے میں