مغوی سوئس جوڑا طالبان کی قید سے رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طالبان کی کیا شرائط تسلیم کی گئی ہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا۔

شمالی بلوچستان سے کوئی آٹھ ماہ پہلے اغوا کیے گئے سویٹزر لینڈ کے جوڑے کو آج شمالی وزیرستان ایجنسی میں رہا کر دیا گیا ہے۔ ان کی رہائی کیسے عمل میں آیی اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے کے مطابق سویٹزرلینڈ کا ایک مرد اور ایک خاتون آج نیم شب کے وقت سیکیورٹی فورسز کی ٹل چوکی پر پہنچے جنھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

سویٹزر لینڈ کے اس جوڑے کی رہائی کیسے عمل میں آئی اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ تحریک طالبان نے تاحال اس جوڑے کی بازیابی کے حو الے سے کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

سویٹزر لینڈ کا یہ جوڑا گزشتہ سال بلوچستان کے شمالی علاقے لورالائی کے قریب سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس جوڑے کے اغوا کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔

اس جوڑے کی بازیابی کے حوالے سے متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ سوئیس جوڑا طالبان کی قید سے فرار ہو کر سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر پہنچا ہے۔

چند روز پہلے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے مغوی وائس چانسلر اجمل خان کی تیسری ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ جس طرح سویٹزر لینڈ کے جوڑے کی رہائی کے لیے تمام مطالبات تسلیم کیے جا رہے ہیں اسی طرح میں پاکستانی ہوں اور میری بازیابی کے لیے چند طالبان کی رہائی نہیں کی جا رہی۔

انھوں نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان سے پہلے ایک اغوا وائس چانسلر کی بازیابی کے لیے بھی طالبان کے مطالبات منظور کیے گئے تھے اس لیے وہ خیبر پختوخواہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی بازیابی کے لیے بھی طالبان کے مطالبات تسلیم کیے جاییں۔

آج اخبار میں یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ پولینڈ کی حکومت نے پاکستان سے دفاعی معاہدہ پولش انجینیئرز کے قاتلوں کی گرفتاری سے مشروط کر دیا ہے۔ پولش انجینییر ان کے ڈرائیور اور محافظ کو کوئی تین سال پہلے اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا اور ان کے قتل کی ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی۔