’برہمداغ بگٹی پر مقدمات واپس لینے کا فیصلہ‘

برہمداغ بگٹی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’بلوچ قوم کو میرے خلاف قائم مقدمات واپس لینے سے زیادہ دلچسپی بلوچستان کی آزادی سے ہے‘

حکومت بلوچستان نے وفاقی حکومت کی ہدایت پر بلوچ ری پبلیکن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ برہمداغ بگٹی پر سیکورٹی فورسز اور قومی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں قائم اٹھائیس مقدمات کو واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق محکمۂ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بلوچ ری پبلیکن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ برہمداغ بگٹی کے خلاف ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں قائم اٹھائیس مقدمات درج ہیں جن میں سیکورٹی فورسز اور قومی تنصیبات پر حملے شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق برہمداغ بگٹی، نوابزادہ حربیار مری، سردار اخترمینگل، جاوید مینگل اور ڈاکٹراللہ نذر سمیت دیگر ناراض بلوچوں کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔

اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان کو ایک سمری بھی بجھوا دی گئی ہے جس میں ان سے ایک کمیٹی بنانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ان بلوچ قوم پرستوں کےخلاف درج دیگرمقدمات کی جانچ پڑتال کر کے تمام قانوی تقاضے پورے کیے جاسکے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بائیس فروری کو اعلان کیا تھا کہ مسئلہ بلوچستان کے حل کے لیے تمام ناراض بلوچوں کے خلاف قائم تمام مقدمات واپس لیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ رحمان ملک کے اس اعلان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بلوچ ری پبلیکن پارٹی کے سربراہ برہمداغ بگٹی نے کہا تھا کہ بلوچ قوم کو ان کے خلاف قائم مقدمات واپس لینے سے زیادہ دلچسپی بلوچستان کی آزادی سے ہے۔

اسی بارے میں