’ڈرون حملوں کو طاقت سے روکنا ممکن نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ تاثر بھی سراسر غلط ہے کہ فوج کے جانے سے فاٹا میں پولیٹکل انتظامیہ غیر فعال اور جرگہ سسٹم کمزور ہوگیا: گورنر خیبر پختونخوا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے گورنر بیرسٹر مسعود کوثر نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کو طاقت کے ذریعے سے روکا جا سکے۔

گورنر ہاؤس پشاور میں بی بی سی اردو کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس وقت ملک کئی قسم کے مشکلات میں الجھا ہوا ہے اور ایسے میں یہ ہمارا لیے ممکن نہیں کہ ایک طرف ہم دہشت گردی کا مقابلہ کریں اور دوسری طرف ایک سپر پاور سے بھی نمٹ لیں۔‘

انہوں نے کہا کہ موجود جمہوری حکومت نے تمام ریاستی اداروں کے تعاون سے امریکہ کے حوالے سے اپنی پالسیوں میں کافی حد تک تبدیلیاں کی ہیں اور اب آنے والی تمام پالیسیاں ملک کے مفادات کو اولین سمجھ کر بنائی جا رہی ہے حالانکہ یہ ایک کھٹن مرحلہ ہے۔

گورنر کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں کوئی بھی حل اس وقت تک قابل قبول نہیں کیا جائے گا جب تک پاکستان کو اس میں اہم اور واضح کردار نہ دیا جائے۔ ان کے بقول پڑوسی ملک میں تمام معاملات ایسے طے ہونے چاہیے کہ اس میں افغان عوام کے خواہشات کا احترام کیا جائے۔

’ ہم گزشتہ تین دہائیوں سے افغان جنگ کی وجہ سے قربانیاں دے رہے ہیں اور ہم ایک اہم فریق بھی ہیں ایسے میں ہمیں نظر انداز کرنا نہ صرف بیرونی طاقتوں کی خام خیالی ہوگی بلکہ ہم اس کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔‘

قبائلی علاقوں میں جاری کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر مسعود کوثر نے دعویٰ کیا کہ فاٹا کے زیادہ تر علاقے شدت پسندوں سے صاف کرا دیے گئے ہیں تاہم وہاں مکمل امن کی بحالی میں ابھی مزید وقت لگ سکتا ہے۔

’جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں کہ فوجی کارروائیاں غیر موثر ہیں وہ سراسر غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے ہمیں مشکلات پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ’دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں چالیس ہزار کے قریب عام شہری اور پانچ ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے قربانیں دی ہیں اور ان کے خون پر وہاں امن قائم ہو رہا ہے۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ قبائلی علاقوں میں فوج کے جانے سے گورنر کا عہدہ برائے نام ہوکر رہ گیا ہے تو اس پر بیرسٹر مسعود کوثر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے اور وہاں فوج مکمل طور پر سول اداروں کے ماتحت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ اس حکومت میں کسی کو یہ بات نظر نہیں آنی چاہیے کہ کسی غیر جمہوری ادارے نے کسی جمہوری ادارے کو دبایا ہو یا اس کے اختیارات غصب کیے ہیں۔‘

گورنر نے مزید بتایا کہ یہ تاثر بھی سراسر غلط ہے کہ فوج کے جانے سے فاٹا میں مقامی پولیٹکل انتظامیہ غیر فعال اور جرگہ سسٹم کمزور ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی علاقے میں آپریشن ہوتا ہے تو اس میں فوج کا اپنا ایک کردار ہوتا ہے جس کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق فوج ایسے وقت میں قبائلی علاقوں میں گئی جب وہاں پولیٹکل انتظامیہ کا کردار انتہائی کمزور ہوگیا تھا اور پولیٹکل ایجنٹ اپنے دفاتر سے باہر نہیں نکل سکتے تھے جبکہ قبائلی مشران اور عمائدین کو بھی ایک سازش کے تحت ہدف بنا کر قتل کیا جا رہا تھا تاکہ وہاں سارا مقامی نظام بیٹھ جائے۔

گورنر نے اس سوال سے بھی اتفاق نہیں کیا کہ فاٹا میں شورش کے خاتمے کےلیے بنائی گئی ’تھری ڈی‘پالیسی ناکام رہی ہے کیونکہ وہاں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے قبائلی علاقوں کا ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں انتہائی غلط شکل پیش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول میڈیا کو تباہی زیادہ دکھائی دیتی ہے لیکن وہاں جو دیگر ترقیاتی کام ہو رہے ہیں وہ ان کو نظر نہیں آ رہے۔

گورنر اس سوال کا بھی واضح جواب نہیں دے سکے کہ اگر افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو کیا یہاں بھی حکومت شدت پسند تنظیموں سے مذاکرات کریگی۔

تاہم انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اگر فوجی کاروائی سے کوئی حل ممکن نہیں تو پھر یہاں بھی فریقین کو اعتماد میں لے کر بات چیت کے ذریعے کسی مسلے کا حل ڈھونڈنے میں کوئی قباحت نہیں۔

اسی بارے میں