بلوچستان:’ابتک قائمہ کمیٹیاں نہیں بن سکیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان اسمبلی میں ساٹھ فیصد کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے بھی اجلاس مؤخر ہوئے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے چار سال گزرنے کے باوجود ابھی تک پبلک اکاؤنٹس اور قائمہ کمیٹیاں نہیں بن سکیں اور نہ ارکان اسمبلی کو اب یہ کمیٹیاں بننے کی توقع ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق اکثر ارکان نے اس کی وجہ اسمبلی میں حزب اختلاف کی کمی بتایا ہے جبکہ اسمبلی کے ساٹھ فیصد اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے موخر ہوئے ہیں۔

سینیئر صوبائی وزیر مولاناعبدالواسع کا کہنا ہے کہ بعض وزراء اور بیوروکریسی نہیں چاہتی کہ کمیٹیاں بن سکیں کیونکہ ان کے بننے کے بعد زیادہ تر کمیٹیوں کی سربراہی جمعیت علماء اسلام کے حصے میں آتی ہے۔

انہوں نے کہا ک’سابقِ حکومت میں بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کا عہدہ میرے پاس تھا لیکن جمعیت کے خوف کی وجہ سے حکومت ان کمیٹیوں کے قیام کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

بلوچستان اسمبلی میں اراکین کی تعداد پینسٹھ ہے جن میں وزراء اور مشیروں کی تعداد اٹھاون ہے۔ صرف تین ارکان حزب اختلاف میں ہیں۔

حزب مخالف کے مطابق وزرا اور مشیروں کی یہ فوج پسماندہ صوبے پر مالی بوجھ ہے۔

بی این پی عوامی سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن اسمبلی ڈاکٹر فوزیہ مری نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ چار سال کے دوران کسی نے بھی بہتر حزب اختلاف کا کردار ادا نہیں کیا اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے سب کو وزیر اور مشیر بنا کرخوش رکھا جس کے باعث یہ کمیٹیاں نہیں بن سکیں۔

ارکان کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران اسمبلی کے اجلاس کے لیے ساٹھ فیصد کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے مؤخر ہوئے ہیں۔

تاہم صوبائی وزیر زراعت اسد بلوچ نے اس کو حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے استحکام کے لیے یہ کمیٹیاں نہ صرف لازمی بلکہ جمہوریت کی روح ہیں کیونکہ ایک جمہوری حکومت میں مضبوط حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ ان کمیٹیوں کے ذریعے ہی عوام کے اصل مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ حکومت میں اسمبلی کے ڈپٹی اپوزیشن رہنماء رحیم زیار توال کا کہنا ہے اس سال کے آغاز میں ایک اجلاس میں صرف دو ارکان نے شرکت کی جبکہ دیگر اراکین کوئٹہ میں موجود ہونے کے باوجود اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے قائمہ کمیٹیاں بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے باعث حکومت کے کئی منصوبے شفاف ثابت نہیں ہو سکے۔

بلوچستان گزشتہ گیارہ سال سے بدامنی کا شکار ہے اور پیپلز پارٹی کی حکومت سے عوام کی بہت سی توقعات وابستہ تھیں لیکن موجودہ اسمبلی امن و امان قائم رکھنے میں ناکام رہی ہے۔

سپیکر بلوچستان اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے کہا کہ سٹینڈنگ اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بغیر جمہوریت کا کردار ختم ہوجاتا ہے اور اسمبلی اس طرح کام نہیں کر سکتی ہے جس طرح انہیں کرنے کی ضرورت ہے۔

صوبے میں جاری بے چینی کے خاتمے کیلے مخصوص کمیٹیوں کا قیام تو دور کی بات ہے بلکہ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے بھی کوئی قابل ذکر منصوبہ ان چار سالوں میں شروع نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں