’قبائلی روایات کا سہارا لینے کا فیصلہ‘

بلوچستان کی اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منتخب نمائندوں کو جرگے میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں قبائل کے ایک جرگے نے اغواء برائے تاوان کے واقعات کی روک تھام کے لیے قبائلی روایات و قوانین کے مطابق لائحہ عمل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم اس فیصلے اعلان بعد میں کیا جائےگا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق اتوار کو کوئٹہ میں چیف آف بیرک نواب محمد خان شاہوانی کی سربراہی میں قبائلی جرگے کا انعقاد کیا گیا۔

چیف آف بیرک نواب محمد خان شاہوانی نے میر امیر حمزہ شاہوانی کے اغواءکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

’جرم کو جس طرح دنیا کے دیگر مہذب معاشروں میں نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اسی طرح بلوچ روایات میں بھی اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے عوامی نمائندے کہلانے والے جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ’ بلوچستان میں سیاسی اور قومی جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو خفیہ اداروں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے جس طرح اٹھا کر غائب کر دیا جاتا ہے اور بعد میں ان کی گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاشیں مختلف علاقوں میں پھینک دی جاتی ہیں یہ ایسے نوجوان ہیں جن کے بارے میں ان کے گھر والے تک نہیں جانتے لیکن ایجنسیاں ان تک پہنچ جاتی ہیں۔‘

پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ ہمارا سماج اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک دور گزر رہا ہے، ہر شخص کو اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہوکر سوچنا چاہیے کہ وہ سماجی اور قومی روایات میں اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار کس حد تک ادا کر رہا ہے۔

سردار احمد خان سرپرہ نے بلوچستان میں اغواء برائے تاوان و بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ چشم پوشی اختیار کرنے سے مسائل کا حل ممکن نہیں بلکہ صورتحال مزید گھمبیر ہوگی۔

میر کبیر احمد محمد شہی نے کہا کہ بلوچستان کو سیاسی اور شعوری طور پر کمزور اور غیر مستحکم کرنے کےلئے یہاں جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کی جارہی ہے جس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے اس کا اندازہ ان قوتوں کو بھی شاید نہ ہو، لیکن بلوچستان کی سیاسی و قبائلی قوتوں کو اس عزم کا اعادہ کرنا ہوگا کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کریں گے اور نہ ہی ان کے حق میں کوئی آواز اٹھائیں گے۔

ڈاکٹر موہن کمار نے بھی اظہار خیال کیا اور حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے حکومت اخلاقی جرآت کا مظاہرہ کرے اپنی ناکامی و نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہو جائے۔

اغواء برائے تاوان چوری ڈکیٹی رہزنی اور بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس اور حکومت و پولیس انتظامیہ کی نااہلی کے خلاف منعقدہ جرگہ کے شرکاءنے فیصلہ کیا کہ ان واقعات کے سدباب کے لیے بلوچ قومی و قبائلی روایات اور قوانین کا سہارا لیا جائے گا تاہم حتمی فیصلے کا اعلان قبائلی عمائدین و معتبرین باہمی مشاورت کے بعد کریں گے۔

اسی بارے میں