الطاف حسین بھتہ لیتے ہیں: آفاق احمد

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انہوں نے بتایا کہ الطاف حسین نے یونس حبیب کے گھر اسلم بیگ سے ملاقات کے بعد ان سے پیسے لیے تھے۔

مہاجر قومی موومنٹ کے سربراہ آفاق احمد نےالزم عائد کیا ہے کہ کراچی میں بھتہ خوری متعارف کرنے والے الطاف حسین ہیں اور آج بھی کروڑوں روپے ماہانہ بھتہ لے رہے ہیں۔

یہ بات انہوں نے پیر کو اسلام آباد پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہ اصل میں دیگر جماعتوں کی جانب سے بھتہ خوری کی وجہ سے الطاف حسین پریشان ہیں کیونکہ وہ اس میں کسی کو شراکت دار نہیں بنانا چاہتے۔

آفاق احمد نے الزام لگایا کہ سندھ کے صنعتوں کے صوبائی وزیر، سائٹ انڈسٹریل سمیت مختلف علاقوں سے تیرہ کروڑ سے زائد چندے کے نام پر ماہانہ بھتہ لیتے ہیں۔ کئی بزنس ایسوسی ایشنز والے انہیں خود ماہانہ بھتہ پہنچانے جاتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق آفاق احمد نے انکشاف کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے جو حال ہی میں بھتہ خوری کے خلاف شور مچایا ہے اس کی وجہ بینک ڈکیتی اور بھتہ خوری کرتے وقت پولیس مقابلے کے بعد گرفتار ہونے والے اپنے ساتھیوں کو چھڑانا ہے۔

’متحدہ کی بھتہ خوری کا اندازہ اس سے لگائیں کہ میں جیل میں تھا میری والدہ نے قربانی کی اور کھال متحدہ کو دے دی۔ میں نے والدہ سے پوچھا ایسا کیوں کیا تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کرتے تو وہ گھر کو آگ لگا دیتے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں مہاجر صوبہ بنانے کی وال چاکنگ الطاف نے حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے کروائی ہے اس سے ان کی جماعت کا تعلق نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ الطاف حسین نے یونس حبیب کے گھر اسلم بیگ سے ملاقات کے بعد ان سے پیسے لیے تھے۔ ’میں اور الطاف حسین دونوں یونس حبیب کےگھر اسلم بیگ سے ملے۔ اسلم بیگ نے الطاف حسین سے کہا کہ لسانی سیاست سے قومی سیاست میں آجائیں تو الطاف نے کہا کہ وسائل نہیں ہیں جس کے بعد اسلم بیگ الطاف حسین اور یونس حبیب کو ایک کمرے میں لے گئے جہاں انہیں رقم دی۔‘

آفاق احمد نے خود بھی اقرار کیا کہ انیس سو ترانوے کے الیکشن میں انہوں نے بھی یونس حبیب سے پچاس لاکھ روپے کا چندہ لیا۔ ’میں یونس حبیب کے گھر گیا، چائے پی اور کہا کہ الیکشن کے لیے خرچہ نہیں ہے۔ انہوں نے پچیس لاکھ دیے تو میں نے کہا کہ یہ کم ہیں اور انہوں نے پچیس لاکھ مزید دیے۔‘

ایم کیو ایم (حقیقی) کے رہنماء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے مہم شروع کی جائے۔

’میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سے ملا ہوں اور سندھ کے قومپرست اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملوں گا اور کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے اتحاد بنائیں گے اور مہم چلائیں گے۔‘

اسی بارے میں