بریگیڈئیرعلی کےخلاف ایک الزام واپس

تصویر کے کاپی رائٹ none

بغاوت کے الزام میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے سینئر پاکستانی فوجی افسر بریگیڈیئر علی خان کے خلاف فوجی صدر دفاتر پر حملے کا الزام واپس لے لیا گیا ہے۔

بریگیڈیئر علی خان کے وکیل انعام الرحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ سوموار کے روز راولپنڈی میں لگنے والی فوجی عدالت نے جب ملزم کو ترمیم شدہ فرد جرم فراہم کی تو اس میں سے فوجی صدر دفاتر یا جی ایچ کیو پر حملہ کرنے کی سازش کا الزام موجود نہیں تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار آصف فارقی کے مطابق اس سے پہلے بریگیڈیئر علی پر کالعدم تنظیم حزب التحریر سے روابط، سول حکومت کے خلاف فوج میں بغاوت پھیلانے اور جی ایچ کیو پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

فوجی استغاثہ کی جانب سے جو فرد جرم ملزم پر عائد کی گئی تھی اس کی تفصیل میں کہا گیا کہ بریگیڈئیر علی نے ایف سولہ لڑاکے طیارے کے ذریعے راولپنڈی میں واقع جی ایچ کیو کو ایسے وقت میں تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جب پوری فوجی قیادت وہاں موجود ہو۔

انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ فوجی عدالت یا استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ترمیم شدہ فرد جرم میں سے جی ایچ کیو پر حملے کا الزام کیوں اور کس نے خارج کیا ہے۔

بریگیڈئیر علی کے خلاف یہ مقدمہ پاکستانی فوج کے خصوصی تفتیشی سیل سی آئی بی نے تیار کیا ہے۔

بعض سینیئر فوجی افسروں سمیت مختلف گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ بریگیڈیئر علی خان پاکستان میں حکومت کا تختہ الٹ کر یہاں خلافت کا نظام قائم کرنا چاہتے تھے اور اس سے پہلے وہ پوری فوجی قیادت کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

بریگیڈئیر علی کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی سیالکوٹ میں شروع کی گئی لیکن بعد ازاں اسے راولپنڈی منتقل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں