منصفانہ کارروائی ممکن نہیں لگتی: وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ c

پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے توہین عدالت کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ عدالتی احکام کی روشنی میں وہ صدر زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھیں گے۔

وزیر اعظم نے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے ایک جواب میں خط نہ لکھنے کے اپنے فیصلے کا بھر پور دفاع کرتے ہوئے کہا ’جب تک کوئی شخص صدر مملکت کے عہدے پر فائز ہے اسے کسی بھی دوسرے ملک میں دیوانی یا فوجداری مقدمے کا سامنا کرنے سے بین الاقوامی قانون کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔‘

وزیرِ اعظم ماضی میں بھی یہ عندیہ دیتے رہے ہیں کہ وہ صدر کے خلاف خط نہیں لکھیں گے لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ انھوں نے سپریم کورٹ میں رسمی طور پر یہ کہا ہو۔

یوسف رضا گیلانی کے وکیل نے پیر کو ان کا تحریری جواب سپریم کورٹ میں داخل کرایا۔وزیرِ اعظم نے اپنے تحریری جواب میں عدالت کے بنچ کے بارے میں بھی تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ انھیں ’منصفانہ کارروائی ممکن نہیں لگتی اور یہ کہ لگتا ہے کہ معزز عدالت نے مقدمے کے نتائج سے پہلے ہی اپنا ذہن بنا لیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں یہ سمجھتا ہوں کہ صدر پاکستان وفاق کی علامت ہیں، پارلیمنٹ کا حصہ ہیں اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں اس لیے یہ مناسب نہیں ہوگا کہ انہیں اپنے عہدے پر فائز ہوتے ہوئے فوجداری مقدمات کے لیے کسی بیرونی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ استثنیٰ حتمی اور قابلِ احترام ہے اور یہ کسی شخص کو نہیں بلکہ عہدے کو حاصل ہے اور یہ اس وقت تک اسے حاصل رہے گا جب تک وہ صدر مملکت کے عہدے پر فائز ہے۔

وزیر اعظم نے کہا ’میں اس بات کو غلط سمجھتا ہوں کہ آئینی طور پر اپنے عہدے پر فائز صدر مملکت کو کسی بیرونی ملک کے مجسٹریٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس طرح کی صورتِ حال سے گریز کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم نے ان پر لگے توہین عدالت کے الزامات کی ترید کی۔ انہوں نے کہا ’جب اس بینچ کو ابھی یہ تعین کرنا ہے کہ آیا خط نہ لکھ کر میں نے کوئی غلط کیا ہے یا صیح تو یہ کیسے قبل از وقت ایک فیصلہ کن اور غیر لچک حکم نامے کے ذریعے مجھے ہدایت دے سکتا ہے کہ میں یہ (خط) لکھوں ورنہ نتائج کا سامنا کروں؟‘

انہوں نے کہا ’اس فیصلے سے میرے دفاع کو نقصان پہنچاتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ معزز عدالت نے مقدمے کے نتائج سے پہلے ہی اپنا ذہن بنا لیا ہے۔ ایسی صورت میں مقدمے کی منصفانہ کارروائی ممکن نہیں۔‘

وزیر اعظم نے اٹھارویں ترمیم کے تحت آئین میں شامل دفعہ دس -اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ پارٹی کو سنے بغیر یا اس کا موقف سننے سے پہلے کوئی بھی فیصلہ نہیں دیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا ہے انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ توہین عدالت کا قانون اب آئین کے نئے دفعہ دس اے سے مشروط اور اس کے مطابق لاگو ہو۔

اسی بارے میں