کٹی پہاڑی: ہزاروں بچوں کی تعلیم متاثر

کراچی، کٹی پہاڑی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہر کا یہ مضافاتی علاقہ گزشتہ سال جولائی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا

کراچی کے علاقے سائٹ ٹاؤن میں گزشتہ نو ماہ سے بڑی تعداد میں سرکاری اور پرائیوٹ سکول بند پڑے ہیں، جس کی وجہ سے 25 ہزار بچے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہیں۔

شہر کا یہ مضافاتی علاقہ گزشتہ سال جولائی میں ہونے والی نشانے وار قتل کی وارداتوں یا ٹارگٹ کلنگ میں بری طرح متاثر ہوا تھا،جس کا سب سے زیادہ اثرتعلیمی اداروں پرپڑا ہوا ہے ۔

صبا کالونی، کنواری کالونی، اسلامیہ کالونی اور کٹی پہاڑی سے متصل اورنگی ٹاؤن میں بند ہونے والے ایسے سرکاری اور پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی تعداد 30 ہے، جس میں نہ تو اب دروازے ہیں نہ کھڑکیاں،جب کہ بیشتر اسکولوں کی دیواریں بھی گر چکی ہیں۔

علاقے میں فروغِ تعلیم کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم برائٹ ایجوکیشن سوسائٹی کے سربراہ اور سماجی کارکن عبدالوحید خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے چار لاکھ افراد پر مشتمل اس آبادی میں 30 سے زائد سرکاری اسکول گزشتہ نو ماہ سے بند ہیں اور لگ بھگ 30 ہزار بچے حصولِ تعلیم سے محروم ہیں اور اسکول ویران ہوچکے ہیں، جبکہ 400 کے قریب اساتذہ نے ان علاقوں میں آنا چھوڑ دیا ہے۔

عبدالوحید خان کے مطابق استاد اور شاگرد کے مابین رشتے کو توڑ دیا گیا ہے، اردو بولنے والے اچھے اساتذہ اور پشتو بولنے والے اچھے شاگردوں کے مابین اب بہت بڑی خلیج آچکی ہے۔

والدین اپنے بچوں کو گھر سے دور دوسرے علاقوں میں اس لیے نہیں بھیجتے کیونکہ انہیں اس بات کا خوف لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کے بچے دو طرفہ فائرنگ کی زد میں نہ آجائیں۔

گزشتہ سال کے فسادات میں اسکول اور کالج کے کئی طلبہ بھی دوطرفہ فائرنگ کی زد میں آئے تھے، جبکہ سب سے اہم واقعہ نوسالہ لائبہ کے قتل کا تھا جو اسکول جاتے ہوئے فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگئی تھی۔

عبدالوحید خان کے مطابق گزشتہ سال کے لسانی فسادات میں اس علاقے کے گیارہ طلبہ فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک جب کہ سترہ طلبہ وطالبات زخمی ہوئے۔

ٹارگٹ کلنگ نے طالبات کی تعلیم کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اسلامیہ کالونی افغان محلہ میں واقع حدیقۃ العلم اکیڈمی کے سابق پرنسپل سردار احمد نے اپنے اسکول کی بندش کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ حالات کی خرابی کی وجہ سے خواتین اساتذہ نے آنے سے معذرت کرلی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک روز جب بچے اسکول میں موجود تھے تو دوطرفہ فائرنگ کی زد میں ہمارا اسکول آیا، آدھے گھنٹے تک مسلسل دونوں جانب سے فائرنگ ہوتی رہی اور بچے اسکول میں محصور ہوگئے۔ اس کے بعد کئی روز تک یہ علاقہ میدانِ جنگ بنارہا اور بچوں نے اسکول آنا چھوڑ دیا۔

سماجی کارکن عبدالوحید خان نے بتایا کہ اسکولوں کی بندش کی وجہ سے بچوں میں منشیات اور دیگر جرائم کی شرح میں زبردست اضافہ ہوا ہے، اسکول نہ جانے والے بچے چرس اور دیگر نشہ آور مواد کی خرید و فروخت میں بھی لگ چکےہیں۔

8سال سے لے کر 16تک کے بچے مختلف قسم کے نشوں کے عادی بن چکے ہیں، جب کہ سرکاری اسکولوں کی بندش کی وجہ سے مدارس کی طرف رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس علاقے میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے چھوٹے بڑے مدارس موجود ہیں، جہاں بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ ان علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے کئی اہم لوگوں کی گرفتاری بھی عمل میں آچکی ہے۔

کٹی پہاڑی کی گلیوں میں کھلونا ہتھیاروں سے لیس بچوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والدین نے انہیں اسکول جانے سے منع کیا ہے کیونکہ اسکول میں نہ تو اساتذہ ہوتے ہیں نہ وہاں بیٹھنے کے لیے فرنیچر ہوتا ہے۔

بی بی سی بات چیت کرتے ہوئے ڈائریکٹر آف اسکولز کراچی نیاز احمد لغاری نے کہا کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ٹارگٹ کلنگ کا بچوں، اساتذہ اور والدین پر اثر ہوتا ہے اور کئی کئی روز تک تعلیمی ادارے بھی بند ہوجاتے ہیں۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کو ابھی تک ایسی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی جس میں اتنی بڑی تعداد میں اسکولوں کے بند ہونے اور طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کا ذکر ہوا۔

ان علاقوں میں پرائیوٹ اسکولوں کی بند ش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے بند ہوجانے کی وجہ مقابلے میں دوسرے اسکولوں کا کھل جانا ہے۔

اسی بارے میں