پاک امریکہ تعلقات پر پارلیمان کا خصوصی اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی رسد کھولنے اور امریکہ سے از سرِ نو سفارتی تعلقات کے تعین کے بارے میں پاکستان کی پارلیمان کا خصوصی اجلاس جاری ہے۔

اس سے پہلے ایوان بالا سینیٹ کے نو منتخب چیئرمین سید نیئر بخاری نے پیر کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی اور پارلیمان کے اجلاس کی کارروائی کے لیے حکمت عملی پر مشاورت کی۔

مسلم لیگ (ن) کے قومی اسمبلی میں چیف وہپ شیخ آفتاب احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ پارلیمان کا اجلاس تین روز تک جاری رہے گا جس میں ان کے بقول پارلیمان کی قومی سلامتی کے بارے میں کمیٹی کی سفارشات پر بحث ہوگی اور آخر میں اس کی باضابطہ منظوری دی جائے گی۔

کمیٹی کے بعض اراکین نے مرتب کردہ سفارشات کی زیادہ تفصیل تو نہیں بتائی البتہ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر صرف اتنا بتایا کہ فوجی اور حکومت کے نمائندوں سے تفصیلی بریفنگ کے بعد متعدد سفارشات تیار کی گئی ہیں۔

ان سفارشات کے مطابق امریکہ سے باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کے تحت مساوی بنیاد پر تعلقات کے قیام، ہر قسم کے تعاون کو قانونی اور تحریری شکل دینا، افغانستان سامان لے جانے پر عالمی قوانین کے مطابق ٹیکس اور ٹراسپورٹیشن چارجز وصول کرنا شامل ہیں۔

پارلیمان کی قومی سلامتی کے بارے میں کمیٹی کے سابقہ رکن اور جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر خورشید احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے کمیٹی سے کہا تھا کہ ڈرونز حملوں کے ہوتے ہوئے نیٹو سپلائی معطل رکھی جائے، لیکن ان کے بقول ان کی تجویز سے کمیٹی نے اتفاق نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ جنوری میں کمیٹی سے مستعفی ہوگئے تھے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر مواصلات ڈاکٹر ارباب عالمگیر نے چند روز قبل بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ نیٹو، امریکہ اور اتحادی افواج کے لیے افغانستان جانے والی ٹریفک کی وجہ سے پاکستان کی سڑکوں پر اضافی بوجھ پڑا اور دو سال پہلے مکمل کردہ جائزے کے مطابق پاکستان اس مد میں ایک ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرچکا ہے۔

پاکستان نےگزشتہ برس چھبیس نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی ہیلی کاپٹرز کے حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے تیل اور دوسری رسد کی فراہمی روک دی تھی۔

پاکستان سے رسد کی فراہمی کا سلسلہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اور پاکستان کے وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ یہ معاملہ پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کو بھیجا گیا ہے جس کی سفارشات پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بلایا جائے گا اور پارلیمان اس پر جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اس کے پابند ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق وسطی ایشیا سے امریکہ اور نیٹو فورسز کی فراہمی ایک تو انہیں بہت مہنگی پڑ رہی ہے دوسرا یہ کہ اس میں بہت وقت لگتا ہے۔ ایسے میں کچھ ہفتے قبل پاکستان کے وزیر دفاع چوہدری احمد مختار کا بیان سامنے آیا کہ حکومتِ پاکستان نے نیٹو کو فضائی راستے سے افغانستان رسد پہنچانے کی اجازت دی ہے۔

واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری نے دو روز قبل ایوان صدر میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا تھا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور اعلیٰ انٹیلیجنس حکام اور حکومتی اتحاد کی تمام جماعتوں کے سربراہان کو بلایا اور ان سے اس بارے میں مشاورت کی گئی تھی۔

یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اجلاس تھا کیونکہ ماضی میں ٹاپ ملٹری لیڈرشپ کے ساتھ اتحادی جماعتوں کے سربراہان کی شرکت کی خبریں کم ہی سننے کو ملیں ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ خارجہ پالیسی کی تشکیل میں جہاں پارلیمان کو ایک فعال کردار ملا ہے وہاں خارجہ پالیسی پر پارلیمان کی نگرانی بھی قائم ہو رہی ہے جس کا اظہار صدرِ پاکستان سترہ مارچ کو پارلیمان کے اجلاس سے خطاب میں کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں