’بھتا خوروں کے خلاف آپریشن پیر سے‘

Image caption اس آپریشن میں کسی کی سیاسی وابستگی کا خیال نہیں رکھا جائے گا، رحمان ملک

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے آج رات سے کراچی میں بھتا خوروں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

کراچی میں بھتا خوروں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں پر تاجروں کے شدید احتجاج کے بعد وفاقی وزیرِ داخلہ کراچی پہنچے جہاں انہوں نے وزیرِ اعلٰی ہاؤس میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کی۔

وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بھتا خوروں کے خلاف آج رات بارہ بجے سے آپریشن شروع کردیا جائے گا جس میں پولیس اور رینجرز حصہ لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں کسی کی سیاسی وابستگی کا خیال نہیں رکھا جائے گا۔

رحمان ملک کے مطابق چوری شدہ موبائل فونز بیچنے والوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بھتا خوری چوری شدہ موبائل فونز کے ذریعے کی جا رہی ہے اور اس میں چین سے درآمد شدہ موبائل فونز شامل ہیں۔

کراچی سے بی بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق رحمان ملک کا کہنا تھا کہ بیس لاکھ موبائل سمز بلاک کرنے کے باوجود اس ضمن دیگر مسائل ابھی بھی موجود ہیں۔

رحمان ملک کے مطابق پی ٹی اے کو پابند کیا گیا ہے کہ تمام موبائل فون کنکشنز کو ایکٹیو کرنے کے ساتھ ساتھ فون کا مخصوص کوڈ بھی رجسٹر کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یکم مئی سے کوئی بھی شخص خود سم کارڈ نہیں خرید نہیں سکے گا بلکہ سم کارڈ اس کے گھر کے پتے پر بھیجا جائے گا اور پی ٹی اے نادرا کے ذریعے شناختی کارڈ ہولڈر کو اس کی اطلاع بھی دے گا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں پولیس اور رینجرز کی پیٹرولنگ بھی بڑھا دی گئی ہے اور پولیس کی نفری کم کرنے کے لیے دس ہزار مزید بھرتیاں کی جائیں گی جن میں سے پانچ ہزار بھرتیوں کے لیے وسائل وفاقی حکومت دے گی۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ہماری پوری توجہ بھتا خوری کے خاتمہ پر مرکوز ہے اور اس کے لیے غیر رجسٹرڈ موبائل فونز کو کسی بھی صورت نہیں چلنے دیا جائے گا کیونکہ یہی مجرموں کی گرفتاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

بھتا خوری کے خاتمہ کے لیے ان کا کہنا تھا کہ تین ہندسوں کا خصوصی فون نمبر بھی متعارف کروایا جائے گا اور وزارتِ داخلہ کے اعلٰی عہدےدار مجھ سمیت اپنا نمبر عوام کو بتا دیں گے اور وزارتِ داخلہ میں ہر پندرہ دن بعد ایک میٹنگ منعقد ہو گی جس میں اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ تاجروں کی شکایات کے ازالے کے لیے ہر تھانے میں ایک اضافی تھانیدار تعینات کیا جائے گا جو بھتا خوری سے نمٹے گا۔

اسی بارے میں