حزب اختلاف کی جانب سے تحفظات کا اظہار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پارلیمنٹ میں پیش کی گی اس قرارداد پر مختلف سیاسی جماعتوں کی مختلف آراء سامنے آ رہی ہے لیکن حکومت کی کوشش ہے کہ اس قرارداد کو متفقہ طور پر پارلیمان سے منظور کروایا جائے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کی پارلیمان میں پیش کردہ سفارشات کے بعض نکات پر حزب اختلاف نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

تاہم دیگر سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی سے مشاورت کے بعد اپنا موقف ظاہر کریں گی۔

سینیٹ کے نئےچیئرمین نیّر بخاری کی صدارت میں منگل کو ہونے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں سولہ رکنی کمیٹی کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر چالیس نکات پر مشتمل سفارشات پیش کیں اور کہا کہ پاکستانی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ خارجہ پالیسی کی تشکیل میں پارلیمان کی بالادستی قائم ہو رہی ہے۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنماء چوہدری نثار نے سفارشات پر تحفظ کا اظہار کیا لیکن دیگر جماعتوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ خارجہ پالیسی کے خد وخال پارلیمان میں طے ہوں گے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں پیش کی گی اس قرارداد پر مختلف سیاسی جماعتوں کی مختلف آراء سامنے آ رہی ہے لیکن حکومت کی کوشش ہے کہ اس قرارداد کو متفقہ طور پر پارلیمان سے منظور کروایا جائے۔

منگل کے اجلاس کے بعد حزب اختلاف کے رہنماء چوہدری نثار نے کہا ’پاکستان کی آزادی اور خودمختاری جیسے اچھے الفاظ کے پیچھے جو چھپا ہوا پیغام ہے وہ خطرناک ہی نہیں بلکہ تشویش ناک بھی ہے۔ اس لیے اگر اس قرارداد پر عمل ہوا تو کل ہر غلط کام پارلیمینٹ کے ذمے ڈالا جائے گا اس لیے ہم نے وقت مانگا ہے۔‘

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ’افغانستان اور عراق کے علاوہ مجھے کوئی اور ملک بتائیں جہاں خفیہ اداروں کے اہلکار اتنی دیدہ دلیری سے کام کر رہے ہوں۔ تو کیا پارلیمنٹ ایسے کارندوں کو پاکستان کے اندر کام کرنے کی اجازت دے سکتی ہے؟ کیا یہ ہماری آزادی اور خودمختاری ہے؟‘

اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر کا کہنا ہے کہ امریکہ سے تعلقات کے متعلق سفارشات کارآمد ہیں لیکن ابھی ان پر اتفاق رائے پیدا ہونا باقی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بشریٰ گوہر نے کہا ’میرے خیال میں یہ کافی اچھی سفارشات ہیں اور یہ کہ ماضی میں خارجہ پالیسی پر اختیار صرف جی ایچ کیو کو حاصل تھا لیکن سیاسی جماعتوں کی طویل کوششوں کی وجہ سے تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ وہ خارجہ پالسی بننے جا رہی جو پارلیمنٹ کے ماتحت ہو گی۔‘

تاہم جماعت اسلامی کے رہنماء پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر سفارشات تشکیل دینے والی کمیٹی سے انہوں نے استعفیٰ اس لیے دیا تھا کیونکہ ان کی جماعت کا موقف ہے کہ ’جب تک قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے بند نہیں ہوتے تب تک پاکستان کو افغانستان میں تعینات نیٹو کےلیے رسد کی ترسیل کے راستے بالکل نہیں کھولنے چاہئیں۔‘

حکومتی کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومینٹ کا کہنا تھا کہ ملک کی قومی سلامتی اور خودمحتاری سے متعلق جو شقیں قرارداد میں شامل کی گئی ہیں ان پر وہ متفق ہیں تاہم ان کی قیادت ابھی باقی شقوں پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کرے گی۔

ایم کیو ایم کے رہنماء وسیم اختر کا کہنا تھا ’جہاں تک قومی سلامتی اور خودمختاری کا تعلق ہے اس پر ہمارا وہی موقف رہے گا جو قرارداد میں کہا گیا لیکن ہماری قیادت قانونی اور خارجہ پالیسی کے ماہر تمام متعلقہ افراد سے بات کرنے کے بعد کوئی واضح موقف دے گی۔‘

اسی بارے میں