سلالہ حملہ:’امریکہ غیر مشروط معافی مانگے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

قومی سلامتی کے بارے میں خصوصی کمیٹی نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کردہ سفارشات میں تجویز کیا ہے کہ حکومت پاکستان امریکہ سے کہے کہ وہ سلالہ چیک پوسٹ حملے پر غیر مشروط معافی مانگے اور ڈرون حملوں پر نظرثانی کریں۔

سفارشات میں تجویز کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے شق چالیس اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق امریکہ پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت کا احترام کرے اور تعاون کے تمام معاہدوں کو تحریری شکل دیں اور اس پر پارلیمان کی نگرانی قائم کی جائے۔

منگل کو پہلی بار چیئرمین سینیٹ کی صدارت میں ہونے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں سولہ رکنی کمیٹی کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے چالیس نکات پر مشتمل سفارشات پیش کیں اور کہا کہ پاکستانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ خارجہ پالیسی کی تشکیل میں پارلیمان کی بالادستی قائم ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیبلشمینٹ نے انہیں کہا کہ بحث کا وقت نہیں ہے پارلیمان سے جلدی منظور کرائیں۔ لیکن ان کے بقول انہوں نے سب پر واضح کیا کہ حتمی اختیار پارلیمان کا ہے اور یہی بحث کا وقت ہے۔ یہ پارلیمان ان سفارشات کو منظور کرے، ترمیم کرے یا مسترد کرے یہ اس کا اختیار ہے۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ سلالہ حملہ پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، پاکستان حکومت امریکہ سے کہے کہ وہ غیر مشروط معافی مانگے، حملےمیں ملوث فوجیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے اور آئندہ ایسے حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ڈرون حملے بند کرے، تعاقب کرتے ہوئے پاکستان میں داخل نہ ہوں، پاکستان کے اندر پرائیویٹ سیکورٹی کانٹریکٹرز کی سرگرمیاں شفاف اور پاکستانی قانون کے مطابق ہوں۔

’اس بات کی ضرورت ہے کہ یہ باور کرایا جائے کہ ڈرون حملے نقصان دہ ہیں، عوام کی قیمتی جان و مال کو نقصان پہنچتا ہے، اس سے دہشت گردوں کی حمایت اور امریکی مخالف جذبات کو ہوا ملتی ہے۔‘

کمیٹی کی مجوزہ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ امریکہ کے بھارت سے سویلین جوہری تعاون سے خطے میں سٹریٹجک توازن بگڑا ہے اس لیے پاکستان امریکہ اور دیگر ممالک سے اس طرح کی سہولت حاصل کرے۔ جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے مواد کی پیداوار کو روکنے کے بارے میں معاہدے ’ایف ایم سی ٹی‘ کے بارے میں بھارت کے حوالے سے جو پاکستانی مؤقف ہے اس پر پر سمجہوتہ نہیں کیا جائے اور امریکہ سے بات چیت میں اس اصول کو سامے رکھا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حملےمیں ملوث فوجیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے اور آئندہ ایسے حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے: سفارشات

غیر ملکی فورسز کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود یا اڈوں کے استعمال کے لیے پارلیمان سے اجازت لینا ہوگی۔ وزارت دفاع اور ایئر فورس امریکہ، نیٹو اور یساف سے نئے ’فلائنگ رولز‘ بنائیں۔ نیٹو، ایساف اور امریکہ کی سپلائی بحال کرنے کے لیے لازم ہے کہ ریگولیشن کی شرائط اور ریگولیشن بنائیں، پاکستان کے داخلی اور خارجی مراکز پر جو بھی چیزیں یا افراد آئیں یا جائیں ان کی سختی سے مانیٹرنگ کی جائے۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ نیٹو سپلائی کے پچاس فیصد کنٹینر پاکستان ریلوے کے ذریعے ٹرانسپورٹ ہوں گے۔ پاکستان میں سامان آنے یا یہاں سے جانے پر ٹیکسز، چارجز عائد کی جائیں اور ان چیزوں کی وجہ سے جو پاکستان کا انفراسٹرکچر خراب ہوتا ہے اس مد میں بھی معاوضہ لیا جائے۔

قومی سلامتی کے بارے میں حکومت، کوئی وزارت، خودمختار ادارہ یا تنظیم کسی بھی غیر مملکی حکام سے کوئی زبانی معاہدہ نہیں کرے گا۔ اگر کوئی ایسا معاہدہ ہے تو فوری طور پر اُسے تحریری شکل دیں ورنہ ان سفارشات کی منظوری کے تین ماہ کے بعد اس معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔

کمیٹی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ اور نیٹو کی رسد کے معاہدے پر نظر ثانی کرے اور نئے معاہدے میں سپلائی معطل کرنے کی شرط رکھی جائے، تمام معاہدے اور فوجی تعاون یا لاجسٹک کے بارے میں معلومات وزارت خارجہ اور متعلقہ محکموں کو ان کی رائے کے لیے بھیجے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیٹو سپلائی کے پچاس فیصد کنٹینر پاکستان ریلوے کے ذریعے ٹرانسپورٹ ہوں گے

تمام معاہدوں اور یاداشت ناموں کا وزارت قانون جائزہ لے گی اور پارلیمانی سیکورٹی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے اور کمیٹی اپنی سفارشات کابینہ کی منظوری کے لیے بھیجے گی۔ متعلقہ وزیر ہر معاہدے اور یاداشت نامے کے بارے میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں پالیسی بیان دینے کے پابند ہوں گے۔ پاکستان میں غیر ملکی انٹیلی جنس کی موجودگی کے لیے پیشگی اجازت لازم ہوگی۔

مجوزہ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے انسانی اور اقتصادی نقصان کو تسلیم کرے، پاکستان کی برآمدات کو امریکہ اور نیٹو رکن ممالک کی منڈیوں تک رسائی دیں۔ کولیشن سپورٹ فنڈ سمیت جو بھی امریکہ اور نیٹو نے ادائیگیاں کرنی ہیں ان کی ادائگی جلد کرنے کا طریقہ وضح کیا جائے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور خطے میں امن کا قیام، اقتصادی اور سماجی ترقی کے مقاصد کا حصول ہونا چاہیے۔ بھارت سے بات چیت کو معنی خیز بنایا جائے، ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل کریں اور افغانستان میں افغانیوں کی سربراہی میں امن عمل کی حمایت کی جائے۔ چین اور روس سے تعلقات کو مزید گہرا اور مستحکم پر بھی زور دیا گیا ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے بعض نکات پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ تفصیلی ردعمل بحث کے دوران دیں گے۔ حکومت اور اپوزیشن نے مشاورت سے طے کیا کہ تمام اراکین غور سے پڑھ لیں اور چھبیس مارچ سے اس پر بحث کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمیشہ سول اور ملٹری بیورو کریسی کا خارجہ پالیسی میں عمل دخل رہا اور ماضی کی تمام حکومتوں کو خارجہ امور کے معاملے میں مداخلت پر برطرف کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے پارلیمان کی خارجہ امور پر نگرانی قائم کرنے پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کے کردار کو سراہا۔

میاں رضا ربانی نے بتایا کہ انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کی حتمی سفارشات صدر اور وزیراعظم سمیت کسی کو بھی نہیں دکھائیں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ یہ پارلیمان میں ہی پیش ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر اور وزیراعظم کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان کی رائے کا احترام کیا۔

پاکستان نےگزشتہ برس چھبیس نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی ہیلی کاپٹرز کے حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے تیل اور دوسری رسد کی فراہمی روک دی تھی۔ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں امریکہ کے زیر استعمال شمسی ائر بیس کو خالی کرایا گیا تھا۔

اسی بارے میں