عمران خان، سلمان رشدی اور ایاز امیر

عمران خان
Image caption تحریک انصاف نے سستی فیس پر ای ایجوکیشن کا اعلان کیا ہے

تحریک انصاف نے کہا ہے کہ وہ سلمان رشدی کے ساتھ کبھی بھی، کہیں بھی نہیں بیٹھیں گے، چاہے پاکستان کے لوگ انہیں ووٹ دیں یا نہ دیں۔

یہ بات تحریک انصاف پاکستان کی بانی رکن اور شعبہ خواتین کی صدر فوزیہ قصوری نے نیویارک میں اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران بی بی سی اردو کے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

اس موقع پر امریکہ میں تحریک ا انصاف نے خواتین کا شعبہ قائم کرنے کا اعلان کیا جسکی صدر نوجوان سرگرم رہنما شیما راٹھور کو نامزد کرنے کا اعلان کیا گیا۔

فوزیہ قصوری نے پاکستان میں مبینہ طور پر اقلیت کی خواتین کی زبردستی تبدیلی مذہب کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کی پارٹی پاکستان میں اقلیتوں کو اقلیت نہیں بلکہ برابر کا پاکستانی شہری اور اکثریت کا حصہ سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری کا تعلق اقلیت سے ہے اور بڑی تعداد میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستانی امریکیوں اور تارکین وطن کو بڑہ چڑہ کر ان کی پارٹی تحریک انصاف میں شامل ہونے اور اسے ووٹ دینے کی اپیل کی اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کی پارٹی اور قائد عمران خان کی کوششوں کے نتیجے ميں حال ہی میں پاکستان سے باہر یا غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو پاکستان میں انتخابات میں ووٹ کا حق دیا گیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ زرداری حکومت غیر ملکی پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کے خلاف ہے کیونکہ غیر ممالک میں آباد پاکستانیوں کی اکثریت تحریک انصاف کی ووٹر ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوہری شہریت رکھنے والے غیر ملک آباد تارکین وطن پاکستانیوں کو پاکستان میں انتحابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ ہونے کے خلاف عمران خان سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے ہیں۔

ایک صحافی کے سوال کہ جتنی تعداد میں لوگ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں اتنی تعداد میں اب لوگ ان کی پارٹی چھوڑ کر بھی جار ہے ہیں، اس ضمن میں معروف پاکستانی کالم و تجزیہ نگار ایاز امیر کے کسی کالم کا حوالہ دینے پر فوزیہ قصوری نے دعویٰ کیا کہ ایاز امیر، بقول فوزیہ قصوری کے، خود تحریک انصاف میں شامل ہونا چاہتے تھے۔

تحریک انصاف امریکہ نے پاکستان میں طلبہ کے لیے سستی فیس پر ای ایجوکیشن یا تعلیم آن لائن کی ویب سائٹ کھولنے کا بھی اعلان کیا جس سے انکا دعویٰ ہے کہ پاکستانی طلبہ اور نوجوانوں کو سستے داموں تعلیم دی جائے گی۔

تحریک انصاف امریکہ نے اس موقع پر بلوچستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر ’آئی لو بلوچ‘ نامی ویب سائٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ تحریک انصاف امریکہ کے عہدیداروں کا دعویٰ تھا کہ تحریک بلوچستان کے عوام اور ان کے حقوق کی حمایت کرتی رہے گي۔

اسی بارے میں