’باہمی احترام اور مشترکہ مفاد کے حامی‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفاد پر مبنی تعلقات کی حمایت کرتا ہے تاہم پاکستانی پارلیمان میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کے متعلق پیش کی گئی تجاویز پر وہ پارلیمان کی حتمی رائے سامنے آنے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کرے گا۔

واشنگٹن میں امریکی دفترِخارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے پیر کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور معیشت کے استحکام اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی اور خطے میں امن کے لیے دونوں ممالک کو مل کر بہت کچھ کرنا ہے۔

پاکستانی پارلیمان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات اور تعاون پر نظرثانی کا عمل شروع کردیا ہے اور اس سلسلے میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے اپنی تجاویز بھی پارلیمان کے سامنے پیش کردی ہیں جن میں امریکہ سے پاکستان کی سرحدی چوکی پر فضائی حملے پر معافی مانگنے اور ڈرون حملے بند کرنے جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔

بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی پارلیمان میں تجاویز کا جو مسودہ پیش کیا گیا ہے اسے امریکہ نے دیکھا ہے لیکن ان تجاویز پر بحث مکمل ہونے اور پاکستانی پارلیمان کی حتمی رائے سامنے آنے سے قبل ان کا ملک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

’ہماری دانست میں یہ عمل اس طرح سے ہوگا کہ ان تجاویز کو پیش کیے جانے کے بعد اب پارلیمان اس پر بحث کرے گی جس کا آغاز چھبیس مارچ سے ہوگا تو میں نہیں سمجھتی کہ ہم اس پر تبصرہ کریں گے جب تک کہ پارلیمانی بحث مکمل نہیں ہوجاتی اور اس کا نتیجہ سامنے نہیں آجاتا۔‘

اس سوال پر کہ پاکستانی پارلیمان میں پیش کی گئی تجاویز کے مطابق پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی احترام اور مفادات پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے تو امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے کن مشترکہ مفادات کو ذہن میں رکھے ہوئے ہے۔

امریکی دفترِخارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ یہی سوچا ہے کہ ہمارے تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہونے چاہییں۔

پاکستان اور امریکہ کو نہ صرف دہشت گردی کے خلاف لڑائی، پاکستان کی معاشی ترقی، جمہوری استحکام، پاکستان کو خطے میں ایک اچھے پڑوسی ملک کے طور پر مستحکم کرنے اور اس کے پڑوسی ملکوں سے اچھے تعلقات کے لیے دونوں ممالک کو مل کر بہت کچھ کرنا ہے۔

ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان کو خطے میں اچھا پڑوسی بنانے کے لیے مستحکم کرنے سے کیا مراد ہے تو ان کا جواب تھا کہ میرا خیال ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ نئی شاہراہ ریشم کے لیے ہماری کوششوں کے تناظر میں ہم اس خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔

وکٹوریہ نولینڈ کے مطابق ہم پاکستان، بھارت اور افغانستان کے درمیان قریبی تعلقات کی حمایت کرتے رہے ہیں اور یہ عمل مسلسل جاری ہے۔

اسی بارے میں