خارجہ پالیسی: ڈور کس کے ہاتھ میں

قومی اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قومی سلامتی کی خصوصی کمیٹی کی سفارشات ’انڈیا سینٹرک‘ بھی لگتی ہے

پاکستانی پارلیمان کی قومی سلامتی کے بارے میں خصوصی کمیٹی کی سفارشات میں خارجہ پالیسی بنانے میں پارلیمان کی بالادستی قائم ہونے کے تاثر سمیت بہت سے مثبت نکات ضرور ہیں لیکن اب بھی تاثر ملتا ہے کہ خارجہ پالیسی کی تشکیل میں جمہوری حکومت سے زیادہ اسٹیبلشمینٹ کی گرفت ہے۔

جس کی جھلک کمیٹی کی پیش کردہ سفارشات میں بھارت سے متعلق شقوں سے لگائی جا سکتی ہے۔

کمیٹی کی مجوزہ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے جوہری اثاثوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ امریکہ کے بھارت سے سویلین جوہری تعاون سے خطے میں سٹریٹجک توازن بگڑا ہے اس لیے پاکستان امریکہ اور دیگر ممالک سے اس طرح کی سہولت حاصل کرے۔ جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے مواد کی پیداوار کو روکنے کے بارے میں معاہدے ’ایف ایم سی ٹی‘ کے بارے میں بھارت کے حوالے سے جو پاکستانی مؤقف ہے اس پر سمجھوتہ نہ کیا جائے اور امریکہ سے بات چیت میں اس اصول کو سامنے رکھا جائے۔‘

کمیٹی کی اس سفارش سے تو کچھ تجزیہ کاروں کے بقول لگتا ہے جیسا کہ حکومت اپنا مؤقف تبدیل کرنے جا رہی ہے یا ایسا کم از کم خدشہ موجود ہے اور یہ عمل جمہوری حکومت پر شک کا اظہار بھی کرتا ہے۔

باوجود اس کے کہ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور خطے میں امن کا قیام، اقتصادی اور سماجی ترقی کے مقاصد کا حصول ہونا چاہیے‘، اس سے یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ خارجہ پالیسی ’انڈیا سینٹرک‘ ہی ہے۔

اس بارے میں بعض تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ایسا اس لیے ہے کہ پہلی بار خارجہ پالیسی کی تشکیل میں پارلیمان کو ایک واضح کردار مل رہا ہے اور ایک دم سے اسٹیبلشمینٹ کے کردار کو منہا یا بہت محدود کرنا مشکل ہے۔ لیکن ایسی رائے رکھنے والے کہتے ہیں کہ اگر پارلیمان میں تمام جماعتیں اسٹیبلشمینٹ کے کردار کو محدود کرنے کے اصول پر کاربند رہتی ہیں تو بتدریج اسٹیبلشمینٹ کا کردار کم ہوتا جائے گا۔

کمیٹی کی سفارشات میں امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔ لیکن ڈرون حملوں کو خود مختاری کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے بھی وہ بند کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے درخواست کی گئی ہے کہ ’امریکہ ڈرون حملوں پر نظر ثانی کرے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ v
Image caption کمیٹی نے ڈرونز کے معاملے میں امریکہ سے نظرِ ثانی کی درخواست کی ہے

یعنی کمیٹی نے براہ راست ڈرون حملے بند کرنے پر زور دیا اور نہ ہی ایسا مطالبہ کیا ہے بلکہ نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔ اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی نجی سیکورٹی کانٹریکٹرز کی سرگرمیاں شفاف اور پاکستانی قوانین کے تحت ہونی چاہیئں۔

اس شق پر مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما چوہدری نثار علی خان نے سخت اعتراض کیا ہے کہ اس کا مطلب نجی غیر ملکی سیکورٹی اہلکاروں کی پاکستان میں موجودگی کو قانونی حیثیت دینا ہے۔ ان کے بقول عراق اور افغانستان کے علاوہ کہیں ایسی اجازت نہیں دی جاتی۔

کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی اور غیر ملکی جنگجو اگر پائے گئے تو انہیں سرزمین سے نکال دیا جائے گا۔ کمیٹی نے اس کی وضاحت تو نہیں کی ہے لیکن بعض تجزیہ کار اس نکتے کو ’حقانی نیٹ ورک‘ کی طرف اشارہ قرار دیتے ہیں کیونکہ اس میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔

کمیٹی کی چھوٹی بڑی چالیس سفارشات میں سے زیادہ تر ایسی ہیں جس سے خارجہ پالیسی کی تشکیل میں منتخب حکومت اور پارلیمان کا عمل دخل زیادہ بھی نظر آتا ہے۔ جیسا کہ پاکستان کی فضائی حدود یا اڈوں کے غیر ملکی فورسز کے استعمال کی صورت میں پارلیمان کی منظوری، قومی سلامتی کے بارے میں کوئی زبانی معاہدہ نہیں، کوئی بھی معاہدہ کرنے کی صورت میں وزارت قانون سے اس کی چھان بین، متعلقہ وزیر پر لازم کرنا کہ وہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں پالیسی بیان دیں اور وزارت خارجہ کو تمام معاہدوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا وغیرہ شامل ہے۔

اس کے علاوہ نیٹو اور امریکہ کے لیے پاکستان کے ذریعے جانے والے سامان اور افراد کی کڑی نگرانی، ٹیکسز اور چارجز لگانے اور پورے عمل کو ریگولرائیز کرنا کا طریقہ کار وضح کیا گیا ہے۔ کمیٹی کی یہ سفارش کہ افغانستان جانے والے سامان میں سے نصف ریلوے کے ذریعے جائے گا، اس سے سخت نقصان اور مسلسل خسارے میں چلنے والی ریل سروس کو کچھ سہارا مل سکتا ہے۔

اس سے قطع نظر کہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں خارجہ پالیسی کی تشکیل میں جمہوری حکومت کا عمل دخل زیادہ ہے یا سیکورٹی اسٹیبلشمینٹ کا، لیکن یہ ایک اچھے عمل کا بہترین آغاز ضرور ہے، جسے سیاستدان مخالفت برائے مخالفت کا اصول اپنائے بنا ہی منطقی انجام تک پہچنا سکتے ہیں۔ جس کے تحت عوام کی منتخب حکومت کلی طور پر مجاز ہوجائے اور تمام اداروں کو پارلیمان کے ماتحت بنا کر نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جائے۔

اسی بارے میں