امن لشکر کے ہاتھوں شدت پسندوں کو سزائیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق حکومت کے حامی قبائلی لشکر نے تین افراد کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سرِ عام گولیاں مارکر ہلاک کر دیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بدھ کو وادی تیراہ کے دور افتادہ پہاڑی علاقے بکر میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی حامی زخہ خیل قبائلی لشکر نے چند دن پہلے تین افراد کو لشکر کے رضاکاروں پر حملے کرنے اور کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر اسلام سے تعلق کے الزام میں حراست میں لے لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد کی طرف سے قبائلی لشکر کے سامنے بم دھماکوں میں ملوث ہونے اور لشکر اسلام سے تعلق کا اقرار کرنے پر ان کو سرِ عام گولیاں ماری گئیں۔ اس کارروائی کے وقت قبائلی لشکر کے رضاکار بڑی تعداد میں موجود تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک کیے جانے والے افراد کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر اسلام سے بتایا جاتا ہے جن میں جمعہ خان نامی ایک کمانڈر بھی شامل ہیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ عرصہ قبل جمعہ خان نے کالعدم تنظیم لشکر اسلام سے اپنا تعلق ختم کرکے قبائلی لشکر میں شمولیت اختیار کرلی تھی لیکن قبائلی رہنماؤں کو شک تھا کہ شاید وہ درپردہ شدت پسندوں سے ملا ہوا ہے جس پر انہیں سزا دی گئی۔

ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق زخہ خیل قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران قبائلی لشکر کی طرف سے مشتبہ افراد کو سرِ عام گولیاں مارنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل بھی بازار زخہ خیل میں چار مشتبہ عسکریت پسندوں کو بھی لوگوں کے ایک ہجوم کے سامنے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قبائلی لشکر نے چند علماء پر مشتمل ایک شوریٰ قائم کی ہوئی ہے جسے ایک ’عدالت‘ کا درجہ حاصل ہے۔ ان کے مطابق شوریٰ کے سامنے مشتبہ افراد کو پیش کرکے ان کو سزا سنائی جاتی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تقریباً ایک سال قبل آفریدی قبیلے کے ذیلی شاخ زخہ خیل نے شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے خلاف ایک قبائلی لشکر تشکیل دیا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس لشکر کو درپردہ حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ یہ لشکر ایسے وقت میں وجود میں آیا جب اسی زخہ خیل قبیلے کے چند شدت پسندوں نے علاقے کے ایک بااثر عالم دین مولانا ہاشم کی ہلاکت کے بعد لشکر اسلام سے منحرف ہوکر حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ مولانا ہاشم کی ہلاکت کا الزام منگل باغ کی سربراہی میں قائم لشکر اسلام کے عسکریت پسندوں پر لگایا جاتا ہے۔

خیبر ایجنسی میں پچھلے چند ماہ سے سکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے۔ ایجنسی کے کچھ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے بے گھر ہوکر جلوزئی مہاجر کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔

اس کے علاوہ دو کالعدم شدت پسند تنظیموں لشکر اسلام اور تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے علاقے میں اپنی عمل داری کے قیام کے لیے ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں جبکہ ان کے درمیان ہونے والی لڑائی میں اب تک دونوں جانب سے درجنوں افراد بھی مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں