بلوچستان بدامنی، ’ذمہ داری سیاستدانوں پر‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بلوچستان کی صورت حال سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ صوبے میں بدامنی کی ذمہ داری سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے جنہیں لوگوں نے ووٹ دیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اغوا، ٹارکٹ کلنگ اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ بلوچستان میں بدستور جاری ہے۔ انہوں نے کہا ’عدالت بے بس نہیں ہے اور آرڈر جاری کر سکتی ہے۔‘

چیف جسٹس نے خفیہ ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ بتائیں کہ ان کی پیش کردہ رپورٹ کے کن حصوں کو خفیہ رکھا جائے۔

چیف جسٹس کا استفسار ایجنسیوں کی طرف سے سات مارچ کی سماعت کے دوران جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی اور ایم آئی کی طرف سے پیش کی جانے والی اس رپورٹ سے متعلق تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ رپورٹ حساس ہے اور اس کے کچھ حصوں کو خفیہ رکھا جائے۔

اسلام آباد میں ہماری نامہ نگار ارم عباسی نے بتایا کہ جمعرات کو سماعت کے دوران عدالت نے بلوچستان کی حکومت سے کہا وہ صوبے میں اغوا، ٹارکٹ کلنگ اور مسخ شدہ لاشوں کے برآمد ہونے سے متعلق جامع رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بلوچستان کی صورتِ حال اور میر بختیار ڈومکی کی اہلیہ اور بیٹی کی کراچی میں ہلاکت سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

عدالت نے سندھ کے انسپکٹر جنرل کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ میر بختیار ڈومکی کی اہلیہ اور بیٹی کی کراچی میں ہلاکت سے متعلق رپورٹ دوبارہ پیش کریں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ خفیہ اداروں سے پوچھ کر بتائیں کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال پر مبنی ان کی رپورٹ کے کن حصوں کو افشاں نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بلوچستان میں ریل اور سڑک کا سفر غیر محفوظ ہو گیا ہے جبکہ مقامی انتظامیہ کا نظام متحرک نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی خراب صورت حال کی وجہ اساتذہ وغیرہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بگڑتی صورت حال کے باعث بلوچستان میں بچوں کو پڑھانے کے لیے سکولوں میں اساتذہ نہیں ہیں اس لیے تعلیمی ادارے بند ہو رہے ہیں۔

عدالت نے بلوچستان کے چیف سکریٹری اور آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ گزشتہ تین برس پر مبنی بلوجستان میں امن وامان کی صورت حال پر رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس رپورٹ میں حکومت بتائے کہ لوگوں کے جان و مال کے تحفط ،امن و امان کی بحالی اور مقامی انتظامیہ کو متحرک کرنے کے لیے کیا اقدام لیے گئے۔ صوبائی حکومت حالات کی بہتری کے لیے کوئی حکمت عملی واضح کرے تاکہ عدالت اس سلسلے میں حکومت کو حکم جاری کرے۔

چیف سکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ لوکل باڈی ایکٹ کی منظوری ہو چکی ہے اور جب درست انتخابی فہرستیں تیار ہو جائیں گی تو بلدیاتی انتخابات کروا دیے جائیں گے۔

بلوچستان کے آئی جی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں حالات بہتر ہو رہے ہیں اور اس سلسلے میں کچھ شرپسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

عدالت نے سماعت تین اپریل تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں