’سات ارب افراد کو پانی کی ضرورت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان دنیا کے ان سترہ ممالک میں شامل ہے جو پانی کی قِلت کا شکار ہیں

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں پانی کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد پینے کے پانی کی اہمیت اجاگر کرنے کے ساتھ اسے محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دینا ہے۔

اس دن کا آغاز سنہ انیس سو بانوے میں اقوامِ متحدہ کی ماحول اور ترقی کے عنوان سے منعقد کانفرنس کی سفارش پر ہوا تھا جس کے بعد سنہ انیس سو ترانوے سے ہر سال بائیس مارچ کو پانی کا عالمی منایا جاتا ہے۔

رواں برس اس کانفرنس کا عنوان دنیا پیاسی ہے کیونکہ ہم بھوکے ہیں‘ ہے۔

اقوامِ متحدہ کےمطابق دنیا میں اس وقت سات ارب افراد کو روزانہ پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے جن کی تعداد سنہ دوہزار پچاس تک بڑھ کر نو ارب ہونے کی توقع ہے۔

کراچی سے نامہ نگار حسن کاظمی نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کےاعدادو شمار کے مطابق ہرانسان روزانہ دو سے چار لیٹر پانی پیتا ہےجس میں خوراک میں موجود پانی بھی شامل ہے۔

پاکستان دنیا کے ان سترہ ممالک میں شامل ہے جو پانی کی قِلت کا شکار ہیں۔

وفاقی وزارتِ سائنس اورٹیکنالوجی کے ذیلی ادارے پی سی آر ڈبلیو آر جو ملک میں پانی سے متعلقہ مسائل کے ادراک اور ان کے حل کے لیے کام کرتا ہے کے چیئرمین ڈاکٹراسلم طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں پانی کی مقدار اور معیار دونوں کے مسائل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان وجود میں آیا تو اس وقت ہر شہری کے لیے پانچ ہزارچھ سوکیوبک میٹر پانی تھا جو اب کم ہو کر ایک ہزار کیوبک میٹر رہ گیا ہے اور سنہ دو ہزار پچیس تک آٹھ سو کیوبک میٹر رہ جائےگا۔

ڈاکٹر اسلم طاہر کے مطابق خوراک کادارومدار بھی پانی پر ہی ہوتاہے اس لیے پانی کےمزید ذخائر بنانےکی اشد ضرورت ہے کیونکہ سنہ انیس سو چھہتر کے بعد سے پانی کا کوئی اہم ذخیرہ تعمیر نہیں ہوا۔

انہوں نے نے بتایا کہ پانی کی مقدار میں کمی کےعلاوہ اس کا معیار بھی انتہائی پست ہے اور عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق پاکستان کی صرف اٹھارہ فیصد آبادی کو پینےکا صاف پانی ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت معیشت کا ڈیڑھ فیصد پانی ہسپتالوں میں پانی سے متعلقہ بیماریوں کے علاج پرخرچ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹراسلم طاہرکا کہنا تھا کہ پاکستان میں پانی سےمتعلق قومی پالیسی بنانےکی ضرورت ہے تاکہ پانی کے نئےذخیرے تعمیر کیےجائیں، پانی کو محفوظ بنانےکی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے اور بارش کے پانی کو زراعت کےلیےاستعمال کےقابل بنایاجائے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں پانی کی کمی دور کرنے کے لیے پانی کو ذخیرہ کرنےکی ضرورت ہے اگرسیلاب کے پانی کو محفوظ کر لیا جاتا تو یہی پانی زراعت اور بجلی پیدا کرنے کے کام آتا۔

پاکستان میں کام کرنے والی ایک این جی او ’پائیدار‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایوب قطب نے بتایا کہ آلودہ پانی سے جو مسائل پیدا ہورہے ہیں انہیں عوام میں شعور بیدار کرکے کم کیا جاسکتاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آلودہ پانی کی وجہ سے ملک میں بچوں کی اموات کا سب سے بڑا سبب ڈائریا ہے اور بچوں میں غذائی کمی کی ایک بڑی وجہ بھی پانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کے پیشِ نظر ہمیں اپنی غذا میں توازن پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ایوب قطب کے مطابق اس وقت ملک کا نوے فیصد پانی زراعت کے لیے استعمال ہو رہا ہے اسی لیے ان فصلوں خاص کر گنا اگانے سے اجتناب کرنا چاہیے جن کی فصل بہت زیادہ پانی لیتی ہے۔

انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ایک کلو گندم پندرہ سو لیٹر، ایک کلو چاول ڈھائی ہزار لیٹر جبکہ ایک کلو چینی اور ایک کلو بڑے گوشت کےلیے سولہ ہزار لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے مختلف اجناس اور بڑے گوشت کی غذائیت میں فرق بتاتے ہوئے کہا کہ ایک یونٹ پانی کے حساب سے آلو میں ساڑھے چھ ہزار غزائیت ہوتی ہے، مکئی میں ڈھائی ہزار، گندم میں ڈھائی ہزار اور بڑے گوشت میں صرف دو سو کے قریب غذائیت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جس میں عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ زراعت کی پالیسی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔

ایوب قطب نے بتایا کہ گنےکی کاشت کی بجائےاگرچینی درآمد کرلی جائےتو یہ مسائل حل ہوسکتے ہیں جس سے کاشت کاری کی زمین بھی خراب ہونے سے بچ سکتی ہے اور پانی کی کمی بھی دور ہوسکتی ہے کیونکہ یہ فصل ہمارے موسم سے مطابقت نہیں رکھتی۔