’بلوچ رہنماوں سے مزاکرات کے لیے تیار ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کےصوبہ بلوچسان کے وزیراعلی نواب اسلم رئیسانی نےکہا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے بغیر بلوچستان میں قیام امن کے لیے ناراض بلوچوں سے مزاکرات کے لیےتیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے مسائل پرخصوصی توجہ دے رہی ہے جس کے نتیجے میں بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کسی حد تک حل ہو جائیں گے۔

کوئٹہ سے نامہ نگارایوب ترین کےمطابق جمعہ کو یو م پاکستان کے موقع پر وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے عسکری پارک کوئٹہ میں منعقدہ بلوچستان میلےمیں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک بار پھر ناراض بلوچ رہنماوں کو مزاکرات کی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ ناراض بلوچ رہنما جہاں چاہیں وہ ان سے مزاکرات کیلے تیار ہیں تاہم انہوں نے اس تاثر کو یکر مسترد کردیا کہ حکومت نے مفاہمتی عمل امریکی کانگریس میں بلوچستان سے متعلق قرارداد آنے کے بعد تیز کیا ہے۔

ان کے مطابق ہم کسی امریکی سے نہیں ڈرتے اورنہ ہی امریکی کانگریس میں بلوچستان سے متعلق قرارداد آنے سے مفاہمت کی بات تیزکی ہے بلکہ حکومت نے تو پہلے دن سے ناراض بلوچوں رہنماؤں کومزاکرات کی دعوت دی۔

میلے میں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عالم خٹک، صوبائی وزرا اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عالم خٹک کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مفاہمتی عمل شروع کرنا حکومت کے اختیار میں ہے۔

تقریب میں شریک سابق سینیٹر اور سینئیر صحافی سید فصیح اقبال نے کہا کہ ابھی تک آغاز حقوق بلوچستان پیکج سے صوبے کے حالات پر کوئی مثبت اثرات نہیں پڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کے تحت پانچ ہزارنوجوانوں کو روزگار دینا کافی نہیں بلکہ پچاس ہزار نوجوانوں کو باعزت روزگار ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے دیاجائے۔

واضح رہے کہ وزیراعلی بلوچستان نے اس سے قبل بھی ناراض بلوچ رہنماؤں کو کئی بار مزاکرات کی دعوت دی ہے لیکن انہوں نے ہمیشہ یہ کہہ کرمزاکرات مسترد کر دیے کہ سب سے پہلے بلوچستان کے لاپتہ افراد کو منظرعام پر لایاجائے اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند کیاجائے۔

بعض سیاسی ماہرین نے بلوچستان کے مسائل پر جمہوری حکومت اور فوجی قیادت کے خیالات میں ہم آہنگی کومثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ

صوبے میں دیرپا امن کے لیے مزاکرات ہی بہتر راستہ ہیں۔

اسی بارے میں