جوہری کانفرنس، پاکستان بھی جائے گا

یوسف رضا گیلانی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سول میں ہونے والی کانفرنس کے موقع پر امکان ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اپنے بھارتی ہم منصف سے بھی ملاقات کریں گے

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بتایا ہے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں جوہری سلامتی پر ہونے والی دو روزہ سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

چھبیس اورستائیس مارچ کو ہونے والی اس کانفرنس میں دنیا کے تریپن ممالک کے رہنما شریک ہوں گے۔

امکان ہے کہ وزیراعظم اس کانفرنس کے دوران امریکی صدر اوباما اور بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ سے بھی ملیں گے۔

کانفرنس کا مقصد قومی اقدامات اور رضا کارانہ طور پر عالمی تعاون کے ذریعے جوہری حفاظت کو یقینی بنانے کے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ دنیا کے بتیس ممالک کے پاس جوہری اسلحہ میں استعمال ہونے کے قابل تابکار مواد موجود ہے۔ جوہری تحفظ کے اقدامات پر تو تمام ممالک کا اتفاق ہے لیکن ان کا دائرہ کار، اقدامات کی نوعیت اور طریقہ کار کے حوالے سے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے پراگ میں سنہ دو ہزار نو میں جو تقریر کی تھی اس میں دنیا سے غیر محفوظ جوہری مواد کو چار سال میں ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اپریل سنہ دو ہزار دس میں واشنگٹن میں منعقدہ اس نوعیت کی پہلی کانفرنس کے تسلس میں یہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم گیلانی پاکستان میں توانائی اور ترقی کے پر امن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی پیداوار پرعالمی تعاون میں تفریق ختم کرنے پر زور دیں گے اور بتائیں گے کہ پاکستان کوگزشتہ چار دہائیوں سے محفوظ جوہری تنصیبات چلانے کا تجربہ ہے اور وہ 'نیوکلیئر سپلائرز گروپ' سمیت دیگر برآمدی اداروں کی رکنیت حاصل کرنے کا اہل ہے۔