’کراچی: احتجاج کرانے والوں پر قابو پا لیا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کے علاقے لیاری میں صبح سے جاری پُر تشدد احتجاج کرانے والوں پر قابو پا لیا گیا ہے اور علاقے کےحالات اب معمول پر آ رہے ہیں۔

علاقے کے سپریٹنڈنٹ پولیس ناصر آفتاب نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ لیاری میں کوئی بڑا آپریشن نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کی کارروائی صرف جرائم پیشہ افراد کے خلاف تھی جس کا غلط تاثر پیش کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کا یہ کام ہے کہ وہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کرے۔

بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی کے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ علاقے کی آبادی بہت زیادہ ہے مگر احتجاج کرنے والے صرف سو کے قریب تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو وہ مصنوعی طور پر نقص امن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران کئی افراد گرفتار بھی ہوئے ہیں تاہم انہوں نے گرفتار افراد کی تعداد بتانے سے گریز کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت علاقے میں مکمل امن ہے اور تمام مظاہرین منتشر ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شام کو رینجرز کی آمد سے پہلے ہی پولیس حالات پر قابو پاچکی تھی۔

اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ لیاری کے علاقے لی مارکیٹ میں پولیس کی جانب سے گرفتاریوں کے خلاف علاقہ مکینوں نے کئی گھنٹے احتجاج کیا۔

خود پولیس کا بھی کہناتھا ہے کہ جحتجاج پانچ گھنٹوں سے جاری ہے اور رینجرز ان کی مدد کو نہیں پہنچی۔

جھڑپوں کی دوران مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بعض مظاہرین نے پولیس پر پٹرول بم بھی پھینکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے فائرنگ اور پتھراؤ کے الزام میں دس افراد کو حراست لے لیا ہے۔

اس سے پہلے بدھ کو پولیس نے لیاری میں مبینہ طور پر جرائم میں ملوث تین افراد کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد وہاں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد گینگسٹر ہیں اور ان کے جوئے کے اڈے اور دیگر غیرقانون کاروبار کو بند کرنے کی وجہ سے وہ پولیس کے خلاف عوام کو اکسا رہے ہیں۔

پولیس نے لیاری میں کالعدم پیپلز کمیٹی کے پوسٹرز اور بینرز اتار دیے تھے۔

یاد رہے کہ کراچی کے علاقے لیاری میں اس سے پہلے بھی کئی بار پولیس لیاری میں مبینہ گینگسٹرز کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو وہاں پولیس کے خلاف ہنگامے شروع ہوجاتے ہیں۔

اس پہلے کراچی میں تاجروں کی جانب سے بھتا خوری کے خلاف کئی روز کےاحتجاج اور سترہ مارچ کو شہر بھی میں مکمل ہڑتال کے بعد اتوار کو وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کراچی میں اعلان کیا تھا کہ بھتا خوروں کے خلاف اتوار کی شب سے آپریشن شروع کیا جائے گا۔

لیاری کے رہنے والے کئی افراد کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں اس مرتبہ پھر لیاری کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اسی بارے میں