کراچی میں طالبان کا تیز تر کاروبارِ اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان شدت پسندوں کاروبار ہے، اس کے علاوہ وہ بینکوں میں ڈاکے مارنے اور تحفظ دینے کے کاروبار میں بھی ملوث ہیں اور دو کروڑ کی آْبادی کا حامل کراچی ان کے لیے سنہری مواقع رکھتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں طالبان بنک میں ڈاکوں، تحفظ دینے اور اغوا برائے تاوان کے ذریعے فنڈ جمع کرتے ہیں۔

ان میں خاص طور پر اغوا برائے تاوان سب سے زیادہ کارآمد ہے کیونکہ بعض اوقات تاوان کی رقم کئی ملین ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔

بی بی سی کی اورلا گورین نے اس سارے کاروبار کی تفصیلات جمع کی ہیں کہ کس طرح شدت پسند پاکستان کے مالیاتی دارالحکومت کراچی میں وارداتیں کرتے اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔

ایک معروف ڈاکٹر اپنے کلینک جا رہا تھا کہ ایک موٹر سائیکل اس کی کار کے برابر آ کر رکی اور موٹر سائیکل پر بیٹھے شخص نے پستول کی نالی اس کی کنپٹی سے لگا دی۔ ڈاکٹر نے فوراً یہ اندازہ لگایا کہ یقیناً کوئی لوٹ مار کرنے والا ہے اس لیے اس نے اپنا موبائل فون اور پرس اس کے حوالے کر دیا۔

لیکن جب اُسے اس کی کار سے نکال کر ایک ایسی جگہ پہنچا دیا گیا جو طالبان کی کمیں گاہ تھی تو اُسے اندازہ ہوا کہ اس پوری واردات کا مقصد کچھ اور ہے۔

اس ڈاکٹر نے بتایا کہ ’انہوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور میرے ہاتھ میری پشت پر کس دیے۔ انہوں نے مجھے ایک تنگ سی جگہ میں بند کر دیا، اس جگہ کی چھت بھی بہت نیچی تھی لیکن انہوں نے مجھے کھانا بھی دیا اور سر کے نیچے رکھنے کے لیے ایک تکیہ بھی‘۔ چار بچوں کے والد اس نرم گفتار ڈاکٹر کی شناخت ان کی حفاظت کے پیش نظر خفیہ رکھی جا رہی ہے۔

یوں تو تاوان وصول کرنے کے لیے اغوا، ایک عرصے سے کراچی میں ایک روایتی کاروبار بن چکا ہے لیکن اب اس میں پھیلاؤ اور تیزی آ رہی ہے۔ گذشتہ سال کے دوران تاوان کے لیے ایک سو افراد کو اغوا کیا گیا جو کسی ایک سال میں ریکارڈ تعداد ہے۔ یہ تمام وارداتیں ریکارڈ پر ہیں۔

اغوا کی ان وارداتوں میں بعض اوقات بلوچستان سے تعلق رکھنے والے گروہ بھی ملوث ہوتے ہیں اور بعض اوقات مختلف گروہوں کے درمیان مارکیٹ کی حصہ داری پر جھگڑے بھی ہوتے ہیں۔

سندھ کی حکومت کے ایک مشیر شرف الدین میمن کا کہنا ہے کہ ’اغوا کرنے والے مقامی جرائم پیشہ ہوں تو معاملہ چھ ہفتے میں نمٹ جاتا ہے، لیکن اگر طالبان ملوث ہوں تو چھ مہینے بھی لگ سکتے اور ایک سال بھی، کیونکہ ان کا مطالبہ ہوتا ہے کہ ادائی غیر ملکی کرنسی میں کی جائے‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کو اغوا کرنے والوں نے ان سے کہا تھا کہ وہ کئی ہفتوں سے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھ رہے تھے اور یہ ان کا مخصوص انداز ہے۔

ڈپٹی سپرینٹنڈنٹ پولیس جہانگیر خان مہر کا کہنا ہے کہ ’وہ یہ وارداتیں وقفوں سے کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ کسے کہاں سے اغوا کیا جانا چاہیے۔ انہیں اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ اغوا کے لیے کیا وقت انتہائی مناسب ہو گا، اور پولیس کہاں کس وقت نہیں ہو گی۔ وہ تمام مقامات کو اچھی طرح چیک کرتے ہیں اور انتہائی محفوظ لوگوں کو اغوا کرتے ہیں اور اسی وقت کرتے ہیں جب ان کی حساب سے وقت انتہائی مناسب ہوتا ہے‘۔

خفیہ نام یونس رکھنے والے طالبان کے ایک جنگجو کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کو بعض مقامی کاروباریوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

منظم اور ہٹ دھرم ہونے کے ساتھ ساتھ شدت پسند لالچی بھی ہیں۔ گذشتہ سال انھوں نے ایک مقامی صنعت کار کو اغوا کیا اور اس کی رہائی کے لیے چھ ملین ڈالر کا مطالبہ کیا۔ اس اغوا میں تاوان ادا نہیں کیا گیا اور مغوی کو پولیس نے حملہ کر کے بازیاب کرایا۔ اس کارروائی کے دوران اغوا کار مارے گئے۔

ڈاکٹر کے معاملے میں اسی ہزار ڈالر تاوان کا مطالبے کیا گیا تھا۔ جب ان کا خاندان یہ تاوان فوری طور پر ادا نہیں کر سکا تو اغوا کاروں نے ان کے بھائی کو ٹیلی فون کیا اور انہیں بتایا کہ ڈاکٹر کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہی نہیں انہیں یہ تک کہا گیا کہ وہ کہاں جا کر ان کی لاش حاصل کر سکتے ہیں۔

جب مغوی ڈاکٹر کے عزیزوں کو ذہنی تشدد سے گذارا جا رہا تھا تو ڈاکٹر خود بھی تشدد سے گذر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ چھ دن ساٹھ سال کے برابر تھے۔ مجھے کوئی پتہ نہیں چلتا تھا کہ صبح کب ہوتی ہے اور رات کب پڑتی ہے۔ سب سے زیادہ یہ احساس تکلیف دیتا تھا کہ گھر کا ہر رکن دروازے کی طرف دیکھ رہا ہو گا اور سوچ رہا ہو گا کہ میں کب اس دروازے سے اندر قدم رکھتا ہوں‘۔

ان کی رائے ہے کہ ’جب پولیس نے مجھے چھڑوانے کے لیے کارروائی کی تو میں موت سے بال بال بچا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب پولیس نے حملہ کیا تو اغوا کاروں نے مجھے ایک اور جگہ منتقل کر دیا، ایک دو لمحوں کی بات تھی کہ وہ مجھے قتل کر دیتے کہ ایک شور اٹھا اور میں بھاگ نکلا‘۔

انہیں اغوا کرنے والوں میں سے دو اب جیل میں ہیں۔ پولیس کو شک ہے کہ وہ اغوا کی چار اور وارداتوں میں ملوث تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان شدت پسندوں کاروبار ہے، اس کے علاوہ وہ بینکوں میں ڈاکے مارنے اور تحفظ دینے کے کاروبار میں بھی ملوث ہیں اور دو کروڑ کی آْبادی کا حامل کراچی ان کے لیے سنہری مواقع رکھتا ہے۔

اس فیچر کے سلسلے میں ایک با اعتماد ذریعے سے ہم نے ایک شدت پسند سے ملاقات کی۔ فرضی نام یونس رکھنے والا یہ شدت پسند افغانستان کی جنگ میں حصہ لے چکا ہے اور اب طالبان کے مالیاتی شعبے میں کام کرتا ہے۔

ہماری ملاقات ایک تباہ حال علاقے میں ہوئی، جہاں ٹوٹے پھوٹے فلیٹوں والی عمارتیں تھیں، سڑکوں کھانے پینے کی اشیا کے سٹال تھے اور جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔

یونس کا کہنا تھا کہ کراچی سے ملنے والے عطیات اسی ہزار ڈالر کے مساوی ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبا کی مدد حاصل ہوتی ہے ، میں آپ کو نام نہیں بتا سکتا لیکن یہ بتا سکتا ہوں کہ یہ سارے عطیات رضاکارانہ اور خود لوگوں کی مرضی سے آتے ہیں۔ ہم اس سرمائے کو اپنے زخمی ہونے والے ساتھیوں کی مدد اور دوسرے کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔

لیکن اس بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب طالبان آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دو تو کون انکار کر سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اسے عطیہ کہتے ہیں اور لوگ اسے ’بھتہ‘ کہتے ہیں۔

ایک رات ہم پولیس کے ساتھ ایک کارروائی میں شریک ہوئے۔ یہ کارروائی گڈاپ کے علاقے میں کی گئی جہاں سے مغوی ڈاکٹر کو بازیاب کیا گیا تھا۔ اس آپریشن کی قیادت سینئر سپرینٹینڈنٹ محمد اسلم خان نے کی۔ ان پر ماورائے عدالت قتل کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔

گذشتہ ستمبر میں ان کے گھر کو پانچ سو کلو گرام کے بم سے نشانہ بنایا گیا۔ اس میں ان کے گھر والے اگرچہ بچ گئے لیکن وہ اب تک یہ عزم رکھتے ہیں کہ آخری سانس تک لڑتے رہیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ملک پر مرنے کے لیے تیار ہیں، ہم ان سے نہیں ڈرتے، انہیں ہم سے ڈرنا چاہیے‘۔

تاریکی میں پولیس کی گاڑیاں ایک راستے پر چلی جا رہی تھیں۔ یہاں پولیس نے ایک بھی گولی چلائے بغیر ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔ اس پر بینک میں ڈاکہ ڈالنے کا الزام تھا۔

سپرینٹینڈنٹ خان کا کہنا تھا ’یہ ہمارے ملک کو غیر مستحکم کر رہے ہیں، انہوں نے ہمارے مذہب کو بدنام کر دیا ہے، ہم انہیں معاف نہیں کر سکتے‘۔

اگرچہ مغوی ڈاکٹر اب معمول کی زندگی شروع کر چکا ہے لیکن اس احتیاط کے ساتھ کہ کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ کب کہاں جائیں گے اور کب کہاں سے آئیں گے۔

اسی بارے میں