خضدار: دو روزہ شٹرڈاؤن اور پیہہ جام ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بلوچ اسیران کی عدم بازیابی اور سیاسی کارکنوں کی ہلاکتوں کے خلاف خضدار میں دو روزہ مکمل شٹرڈاؤن اور پیہہ جام ہڑتال شروع ہوگئی ہے۔

ہڑتال کے موقع پر شہر کے تمام کاروباری مراکز، بینک اور سرکاری اور پرائیویٹ سکول مکمل طور پر بند رہے جس کے باعث شہریوں اور مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کوئٹہ میں بی بی سی کےنامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچ اسیران بازیابی کمیٹی کی اپیل پر سوموار کو خضدار شہر مکمل طور پر بند رہا یہاں تک کہ سڑکوں پر گاڑیاں بھی نظر نہیں آئیں۔

تمام تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اس کے علاوہ کوئٹہ - کراچی قومی شاہراہ بھی دن بھر بند رہی جس کے نتیجے میں مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ہڑتال کے دوران پولیس اور ایف سی کے اہلکار دن بھر شہر میں گشت کرتے رہے تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

بلوچ اسیران بازیابی کمیٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ تین سال قبل خضدار سے نامعلوم افراد کے ہاتھوں کبیر بلوچ، مشتاق بلوچ، عطاء اللہ بلوچ اغواء ہوئے لیکن تین سال گزرنے کے باوجود یہ لاپتہ بلوچ منظرعام پر نہیں آسکے ہیں۔

اس کے برعکس کبیر بلوچ کے چھوٹے بھائی وحید بلوچ اور اُن کے ساتھی سلمان بلوچ، حافظ عبدالقادر مینگل، حاجی رمضان زہری کو نامعلوم افراد نے ہلاک کیا ہے۔

بلوچ اسیران بازیابی کمیٹی کے ترجمان نےکہا کہ ذاکر مجید بلوچ، ڈاکٹر دین محمد بلوچ، شمس بلوچ، سعد اللہ بلوچ، غفار بلوچ، غفور بلوچ، منیرمیروانی ایڈووکیٹ، غفارغلامانی، رشید لانگو، عتیق قلندرانی، خلیل قلندرانی، ضیاء قلندرانی، ظفر قلندرانی، نثار گرگناڑی سمیت ہزاروں کی تعداد میں بلوچ نوجوان لاپتہ ہیں لیکن حکومت اور عدلیہ نے ان کی بازیابی کے لیے ابھی تک مؤثر اقدامات نہیں کیے جس کے باعث ورثاء کو شدید تشویش کا سامنا ہے۔

بلوچ اسیران بازیابی کمیٹی کے ترجمان نے لاپتہ بلوچ اسیران کی عدم بازیابی، نوجوانوں اور بزرگوں کی خفیہ اداروں کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ اور مسخ شدہ لاشوں کے خلاف ہڑتال کو بھر پور انداز سے کامیاب بنانے پر خضدار کے عوام، تاجر اور ٹرانسپورٹرز سمیت دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی مظالم کے خلاف آئندہ بھی وہ اس طرح تعاون کریں گے۔

دوسری جانب کوئٹہ کے علاقے سبزل روڈ پر پیر کی سہہ پہر نامعلوم مسلح افراد نے ایک دکان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

فائرنگ کے بعد نامعلوم ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ پولیس نے اسے ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔

اگرچہ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے لیکن آخری اطلاع تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی اور نہ کسی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

خیال رہے کہ دو روز قبل کوئٹہ کی بلوچی سٹریٹ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک سنی عالم حافظ عبدالباسط کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ان کی ہلاکت میں ملوث ملزمان ابھی تک گرفتار نہیں ہوسکے ہیں جس پر مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں