پاک امریکہ تعلقات، پارلیمان میں ہنگامہ آرائی

تصویر کے کاپی رائٹ other

قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر بحث کے لیے بلایا گیا پارلیمان کا اجلاس بجلی کی لوڈشیڈنگ اور اضافی بلوں کی وجہ سے ہنگامی آرائی کی نظر ہو گیا۔

مشترکہ اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے اراکین کی جانب سے’بجلی دو، بجلی چور‘ کے نعرے با آواز بلند لگتے رہے۔

قومی سلامتی کے بارے میں خصوصی کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ چالیس سفارشات پر پارلیمان میں بحث منگل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق پیر کو ڈھائی گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہونے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حزب اختلاف نے امریکہ سے ازسرنو تعلقات کے حوالے سے سفارشات پر بحث کو موخر کرواتے ہوئے ملک بھر میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ اور اضافہ بلوں پر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

حزب اختلاف کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے حکومت کو چوبیس گھٹنے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کم نہ کی گی تو وہ وزیر اعظم ہاؤس، ایوان صدر کے سامنے اختجاج کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت صوبوں میں بجلی کی لوڈشینڈگ کے معاملے پر تفریق برتی جا رہی ہے۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ اور اضافی بلوں پر حزب اختلاف کی جانب سے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر برائے بجلی و پانی نوید قمر نے تسلیم کیا کہ بجلی کی قیمت کا تعین کرنے والے ادارے نیپرہ نے دو تین مہینے کے فیول سرچارج بجلی کے بلوں میں شامل کیے ہیں جس کی وجہ سے بل میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرچارج کی وصولی کا نظام جب تک متعارف نہیں کرایا جاتا اس وقت تک عوام سے واجبات کی ادائیگی کے علاوہ فیول سرچارج وصول نہیں کیا جائے گا۔

نوید قمر نے اجلاس کے دوران حزب اختلاف کی جانب سے اس الزام کا مسترد کیا کہ حکومت کی جانب سے چاروں صوبوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں تفریق برتی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت اس وقت ساڑھے نو ہزار میگاوٹ بجلی پیدا کر رہی ہے جو کہ حکومتی صلاحیت سے پہلے ہی زیادہ ہے۔ وزیر برائے بجلی و پانی کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف بجلی کے مسئلے پر سیاست نہ کرے۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی کے رہنماء خورشید شاہ نے جب بجلی کی لوڈشینڈنگ کے مسئلے پر بات شروع کی تو مسلم لیگ نون کے رہنما عابد علی شیر نے بجلی چور کے نعرے لگانے شروع کر دیے، جس پر حکومتی اراکین نے’شیم شیم‘ کہتے ہوئے ڈیسک بجائے، حکومتی اراکین اور اس کے اتحادیوں نے سینیٹ میں حزب اختلاف کے رہنما اسحاق ڈار کو بھی تقریر مکمل کرنے نہیں دی۔

اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا اور مسلم لیگ نون کی رہنما تحمینہ دولتانہ کے درمیان بھی سخت جملوں کا تبدلہ ہوا جس کے بعد تحمینہ دولتانہ نے واک آوٹ کیا لیکن ساتھی اراکین انہیں راضی کر کے واپس لے آئے۔

قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا نے اپنے بیٹے سمیت سندھ اسمبلی کے بعض اراکین کو دھمکی آمیز خط ملنے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک سے کہا وہ اس معاملے کی وضاحت کریں۔

اس پر وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ بعض گروہ کراچی کو غیر مستحکم رکھنا چاہتے ہیں اس لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی ائے کو معاملات کی جان پڑتال کا کہا گیا ہے۔

کراچی میں اتوار کی رات ایم کیو ایم کی جانب سے منعقد کیے گئے مشاعرے پر فائرنگ کے واقعہ پر وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا اور بعض کو گرفتار کر لیا ورنہ صورت حال مزید بگڑ سکتی تھی۔

انہوں نے سپیکر اسمبلی کو بتایا کہ کراچی کا وہ علاقہ جو جرائم کا گڑھ ہے وہاں حال ہی میں حکومت نے باسٹھ گروہوں جبکہ بھتہ خوروں کے چھ گروہوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے دھمکی آمیز خطوط ملنے کے واقعات کو کنٹرول کرنے کے لیے تین برس پہلے اسمبلی میں بل پیش کیا تھا جسے تاحال منظور نہیں کیا گیا اور اب اسے منظور کیا جائے۔

اجلاس کے موقع پر سینیٹر حاجی عدیل نے بنگلہ دیش کے یوم آزادی کے موقع پر انہیں مبارک دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے علیحدگی کے بعد سے وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اس لیے پاکستان کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔

اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے رہنما چوہدری نثار علی کے علاوہ رکن پارلیمان کشمالہ طارق نے بھی بارہ برس پہلے تیزاب سے چہرہ جھلسائی جانے والی فاخرہ یونس کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ سب سیاستدانوں کو اس پر شرمندہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے اجلاس کے بعد سابق گورنر پنجاب مصطفیٰ کھر کے بیٹے بلال کھر کی بیوی فاخرہ یونس کے مقدمے کی دوبارہ تحقیقات سے متعلق ایک قراردار بھی اسمبلی میں جمع کرائی۔

اس سے پہلے بعض مقامی صحافتی اداروں کی جانب سے صحافیوں کو تنحواہیں نہ دینے، پارلیمان میں صحافیوں کے لیے بہتر انتظام کی عدم موجودگی اور ایک انگریزی اخبار کی خاتون مدیر کو مبینہ طور پر وفاقی وزیر حفیظ شیخ کی جانب سے دھمکی ملنے کے معاملے پر صحافیوں نے اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کی جانب سے یقین دہانی کے بعد صحافی واپس پریس گیلری میں آئے۔

قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا نے اجلاس منگل تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ’جس مقصد کے لیے مشترکہ اجلاس آج بلایا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا جس کی وجہ سے باہر غلط پیغام جا رہا ہے اس لیے مجھے امید ہے کہ کل ہر رکن اسمبلی اس مسئلے پر بحث کرے گا جس کے لیے اجلاس بلایا گیا تھا۔‘

اسی بارے میں