کراچی شہر میں ہنگامے، نو افراد ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن سمیت دو افراد ہلاک اور ایک خاتون زخمی ہوگئیں۔ واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی پھیل گئی اور مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں مزید سات افراد ہلاک ہوگئے۔

متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ مرنے والا ایک شخص منصور مختار ان کے پی آئی بی کالونی سیکٹر کی کمیٹی کا رکن تھا جبکہ دوسرا شخص ان کا بھائی مقصود مختار اور زخمی خاتون ان کی بھابھی عظمٰی مختار تھیں۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد بلوچ کالونی، خواجہ اجمیر نگری، کورنگی، پاکستان بازار، شرافی گوٹھ، جمشید کواٹر اور لانڈھی میں فائرنگ سے مزید سات افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے بیشتر کی ابھی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

کراچی پولیس کے مطابق شہر میں تشدد کے دیگر واقعات میں نو افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد نے ایک پولیس موبائل سمیت تینتیس گاڑیوں کو آگ لگا دی اور گلبرگ کے علاقے میں ایک ریسٹورنٹ کا باہر پڑا فرنیچر بھی جلا دیا گیا۔

پی آئی بی کالونی کے تھانیدار چوہدری سعید اختر کے مطابق صبح سوا پانچ بجے پی آئی بی کالونی کے ایک گھر میں نامعلوم افراد نے گھس کر فائرنگ کردی جس سے منصور مختار موقع پر ہلاک ہوگئے جب کہ ان کے بھائی اور بھابھی کو تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں منصور اختر کے بھائی نے بھی دم توڑ دیا۔ آخری اطلاعات تک ان کی بھابھی کی حالت کافی تشویش ناک ہے۔

اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی شہر بھر میں کشیدگی پھیل گئی اور مختلف علاقوں میں فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ شروع ہوگیا۔

کراچی کے مختلف علاقوں سے ہوائی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ شہر کی متعدد اہم سڑکوں پر ٹائر جلائے گئے۔ دیگر واقعات میں لیاقت نیشنل ہسپتال کے باہر ایک پولیس موبائل اور ایک بس کو جلادیا گیا۔ اس کے علاوہ کالا بورڈ کے قریب ایک ٹرک کو آگ لگا دی گئی جب کہ ملیر ہالٹ، سینٹرل جیل، تین ہٹی، شاہ فیصل، ابوالحسن اصفہانی روڈ، لانڈھی، ناظم آباد میں بسوں اور گاڑیوں کو جلادیا گیا۔

کراچی میں رینجرز اور پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے حالات پر قابو پانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں فلیگ مارچ کیا جس سے صورتِ حال کچھ بہتر ہوئی اور مختلف علاقوں نے ہنگامہ آرائی کے الزام میں بیس سے زیادہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

منگل کو کراچی میں تمام تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے تاہم سٹاک ایکسچینج میں معمول کا کاروبار ہوا۔

شہر کی بڑی شاہراہوں پر ٹریفک معمول سے انتہائی کم رہا اور شہر کی کشیدہ صورتِ حال کی وجہ سے کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے پبلک ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا اعلان کیا ۔

شہر کے تمام پیٹرول اور سی این جی سٹیشنز بند رہے جس سے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی۔

کراچی میں اس واقعے کے بعد تمام تعلیمی ادارے بند کردیے گئے اور جامعات میں منگل ہونے والے تمام امتحانات بھی منسوخ کردیے گئے ہیں۔ جامعہ کراچی کی ترجمان کا کہنا ہے کہ نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

اندرونِ سندھ

اس واقعے سے کراچی کے علاوہ اندرونِ سندھ بھی جزوی طور پر متاثر ہوا ۔ حیدرآباد سے صحافی علی حسن نے بتایا کہ شہر مکمل طور پر بند رہا اور مختلف علاقوں میں نوجوانوں نے ناکہ بندی کردی اور کسی کو جانے نہیں دیا گیا جبکہ شہر کی متعدد سڑکوں پر ٹائر جلائے گئے۔

نواب شاہ میں ہوائی فائرنگ کے واقعات کے بعد کاروباری مراکز بند کردیے گئے جبکہ ٹنڈوالہ یار میں فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوگئے۔

میرپور خاص میں بھی مکمل ہڑتال رہی اور مظاہرین نے مختلف شہروں کو جانے والی سڑکیں رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیں جس سے سرکاری اور نجی گاڑیاں بند ہوگئیں۔

سکھرمیں بھی کاروبار مکمل طور پر بند رہا اور چند علاقوں سے ہوائی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں جس کی وجہ سے لوگ گھروں میں محبوس ہوگئے ہیں۔

دریں اثناء علی الصبح مرنے والے منصور مختار اور ان کے بھائی مقصود کی نمازِ جنازہ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کے قریب واقع جناح گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں ایم کیو ایم کے شہداء کے لیے مخصوص قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا ۔

متحدہ قومی موومنٹ نے منصور مختار کے قتل پر منگل کو یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں