کراچی میں ہلاکتوں کی تعداد گیارہ ہو گئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں منگل کو ہونے والی ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے بعد شام کے وقت صورتِ حال معمول پر آنا شروع ہوگئی ہے۔

منگل کو کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد گیارہ ہو گئی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک تیرہ سالہ لڑکا بھی شامل ہے جب کہ تیرہ افراد زخمی ہیں۔

کراچی میں پرتشدد واقعات میں ایک پولیس موبائل سمیت تینتیس گاڑیاں بھی جلا دی گئیں جن میں بسیں اور ٹرک بھی شامل ہیں۔

کراچی میں منگل کو رات گئے تک شہر کے کئی علاقوں میں تناؤ کی کیفیت برقرار رہی اور زندگی معمول پر نہیں آئی ہے۔

منگل کی شام کو شہر کے بیشتر علاقوں میں اشیاء خورد و نوش کی دوکانیں کے ساتھ ساتھ پیٹرول پمپ اور سی این جی سٹیشنز بھی کھلنے شروع ہوگئے۔

کھلنے والے پیٹرول اور سی این جی اسٹیشنز پر گاڑیوں کی طویل قطاریں بھی دیکھنے میں آئیں۔

کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے اعلان کیا ہے کہ کراچی کے تاجر بدھ کو معمول کے مطابق کاروبار کریں گے جبکہ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ بدھ کی صبح حالات دیکھ کر گاڑیاں سڑکوں پر لانے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی اختر حسین گورچانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ منگل کا دن ان کے لیے بہت مشکل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکن کے قتل کے بعد لوگ کافی مشتعل تھے اور اسی دوران کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جب کہ متعدد گاڑیاں جلادی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تاہم انہوں نے کہا کہ اب صورتِ حال بہتر ہوگئی ہے اور ایم کیو ایم کے مرنے والے کارکنان کی نماز ِ جنازہ کے بعد تدفین کردی گئی جبکہ ابتدائی ردِعمل میں غفلت برتنے پر علاقے کے ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا ہے اور ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک تفتیشی ٹیم بھی بنا دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے کارکن کے قتل کو لسانی اور سیاسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

کراچی میں منگل کو علی الصبح سے شروع ہونے والے ہنگاموں پر بروقت قابو پانے میں پولیس کی ناکامی کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ پولیس ہر جگہ موجود نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں کئی جگہ بیک وقت احتجاج ہو رہا تھا جس پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے۔

ان واقعات کے بعد پولیس کے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔

اخترحسین گورچانی نے بتایا کہ پولیس نے منگل کے روز بارہ سے زیادہ افراد کو مختلف الزامات میں گرفتار کیا ہے۔

دوسری جانب کراچی میں رینجرز کے ترجمان کرنل شفیق نیازی نے بھی کہا کہ اب حالات بہتر ہیں۔

انہوں نے تشدد کے واقعات پر قابو پانے میں در پیش مشکلات بتاتے ہوئے کہا کہ تشدد کے واقعات کسی مخصوص علاقے میں نہیں ہوئے بلکہ پورے شہر میں پھیلے ہوئے تھے اور سب سے زیادہ حملے گاڑیوں پر کیے جا رہے تھے جس پر قابو کرنا مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رینجرز نے بھی دس سے زائد افراد کو ہنگامہ آرائی کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔

انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ رینجرز بہت دیر سے حرکت میں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اطلاع ملتے ہیں حساس علاقوں میں گشت شروع کر دیا تھا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کےرکن صوبائی اسمبلی رضا ہارون نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت نے حکومت کو قاتلوں کی گرفتاری کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیا ہے اور اگر حکومت ناکام رہی تو پھر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس قتل کو فوراً بعد شرپسندوں نے کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جس کا مقصد کراچی کے معصوم لوگوں کے ڈرانا اور کراچی اور ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانا تھا۔ انہوں نے اسے صرف کراچی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ایک سازش قرار دیا۔

اسی بارے میں