لاہور ہائی کورٹ میں دس برس بعد خاتون جج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اعلیٰ ترین عدلیہ یعنی لاہور ہائی کورٹ میں دس برسوں کے کے بعد کسی خاتون وکیل نے بطور جج اپنے فرائض انجام دینا شروع کیے ہیں۔

جسٹس عائشہ اے ملک ان پانچ نئے ججوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔

جسٹس عائشہ ملک لاہور ہائی کورٹ کی تیسری خاتون جج ہیں۔

ان سے پہلے جسٹس فخرالنساء کھوکھر اور جسٹس ناصرہ جاوید اقبال لاہور ہائی کورٹ کی جج رہ چکی ہیں۔

جسٹس عائشہ اے ملک اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے انتالیس ججوں میں سے واحد خاتون جج ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں پہلی بار1994ء میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں تین خاتون وکلاء کو لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا جن میں فخرالنساء کھوکھر، ناصرہ جاوید اقبال اور طلعت یعقوب شامل تھیں۔

تاہم سپریم کورٹ کے معروف’ججزز کیس‘ کے فیصلے کے مطابق خواتین ججوں میں صرف جسٹس فخرالنساء کھوکھر ہی اپنے عہدے پر قائم رہنے کی اہل قرار پائیں۔

سات برس کے وقفے کے بعد مئی دو ہزار ایک میں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے شاعر مشرق علامہ اقبال کی بہو ناصرہ اقبال کو دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا اور انہوں نے نومبر دو ہزار دو تک ایڈیشنل جج کے طور فرائض انجام دیے۔

جسٹس فخرالنساء کھوکھر جون دو ہزار چار میں لاہور ہائی کورٹ کی سینیئر ترین جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئیں اور اس وقت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس افتخار حسین چوہدری کے ساتھ اختلافات کے باعث ان کے اعزاز میں روایتی الوداعی تقریب نہیں ہوئی۔

جسٹس افتخار حسین چوہدری جنرل پرویز مشرف کے قریب ہونے کی وجہ سے اپنی ریٹائرمنٹ تک چیف جسٹس رہے اور اسی وجہ سے فخرالنساء چیف جسٹس ہائی کورٹ نہ بن سکیں۔

جسٹس فخرالنساء کھوکھر اس وقت پیپلز پارٹی کی طرف سے مخصوص نشستوں پر رکن قومی اسمبلی ہیں۔

جسٹس فخرالنساء کھوکھر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوئیں اور جسٹس ناصرہ جاوید اقبال بھی لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر رہ چکی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھانے والی خاتون جسٹس عائشہ ملک نے بیرون ملک سے قانون کی تعلیم حاصل کی ہے اور وہ انکم ٹیکس، لیبر، بینکنگ اور دیگر قانون کے شبعوں میں مہارت رکھتی ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک کو دیگر نئے چار ججوں کی طرح ایک سال کے لیے لاہور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا اور آئندہ برس ان کے عہدے کی معیاد مکمل ہونے پر انہیں ہائی کورٹ کا مستقل جج مقرر کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

لاہور ہائی کورٹ میں نئے ججوں کی تقرری سے ججوں کی کل تعداد انتالیس ہوگئی ہے جبکہ ابھی ججوں کی گیارہ اسامیاں خالی پڑی ہیں۔

اسی بارے میں