لوڈشینڈنگ: عوام کا احتجاج اور توڑ پھوڑ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں کافی عرصے سے توانائی کا بحران جاری ہے اور یہ وقفے وقفے سے شدت اختیار کر جاتا ہے جس کے باعث عوام سڑکوں پر اتر آتی ہے

پاکستان کے صوبے پنجاب کے مختلف شہروں میں بجلی کی طویل بندش کے خلاف احتجاج جاری ہے اور صوبائی دارالحکومت میں مظاہرین نے بجلی کی ترسیل کے ادارے لیسکو کے دفتر پر دھاوار بول دیا جبکہ فیصل آباد میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

ُادھر بجلی فراہم کرنے والے ادارے پیپکو کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار بڑھنے سے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی ہو رہی ہے۔

بجلی کی طویل بندش کے خلاف مظاہرہ کرنے والے شہریوں نے منگل کو بھی توڑ پھوڑ کی اور تاجروں نے بھی مارکیٹوں کو بند کر کے احتجاج میں حصہ لیا۔

صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا گیا اور شہر میں اچھرہ کے علاقے میں مشتعل افراد نے بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے دفتر پر حملہ کر دیا اور وہاں توڑ پھوڑ کی اور املاک کو نقصان پہنچایا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق مظاہرین نے ایک پیٹرول پمپ کو بھی آگ لگانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس پر مظاہرین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ٹریفک سنگل توڑ ڈالے۔

لاہور کے علاقے لکشمی چوک میں مظاہرین نے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی گاڑی کو نقصان پہنچایا۔

مظاہرین نے جی ٹی پر احتجاج کرتے ہوئے لاہور کو آنے اور جانے والی ٹریفک کو روک دی جس کی وجہ سے دو گھنٹوں تک ٹریفک معطل رہی۔

بجلی کی طویل بندش کے خلاف تاجر اور صنعت کاروں کی تنظیموں کی اپیل پر فیصل آباد میں مکمل ہڑتال ہوئی اور شہر کی بڑے کاروباری مرکز بند رہے۔شہر کے مختلف علاقوں سے احتجاجی ریلیاں نکالیں گئی اور مظاہرین نے نعرے لگائے ۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے فیصل آباد میں ایک ریلی میں شرکت کی اور مظاہرین سے خطاب کیا۔

فیصل آباد میں مطاہرین پہلے ڈسٹرکٹ کونسل جمع ہوئے جہاں سے ایک بڑے جلوس کی صورت میں گھنٹہ گھر چوک گئے جہاں مظاہرین نے دھرنا دیا۔

سرگودھا اور بہاولنگر میں بھی تاجروں اور شہریوں نے بجلی کی طویل بندش کے خلاف احتجاج کیا

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے گوجرانوالہ میں صعنت کاروں اور تاجروں سے ملاقات کی اور ان سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری پر نکتہ چینی کی۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ وہ احتجاج میں عوام کے ساتھ ہیں تاہم انہوں نے یہ اپیل کی کہ املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔

دوسری طرف پیپکو حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں چار ہزار سے ساڑھے پانچ ہزار میگا واٹ کی کمی کا سامنا ہے اور اس کی ایک وجہ پانی کی قلت ہے جس کی وجہ سے تمام انحصار فرنس آئل پر کرنا پڑ رہا ہے۔

پیپکو کے ڈائریکٹر جنرل اعجاز قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر فرنس آئل کی مطلوبہ ہ مقدار مل جائے تو لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں روزانہ پینتس ہزار ٹن آئل کی ضرورت ہے جبکہ اس کے برعکس انہیں پندرہ ہزار ٹن کے قریب فرنس آئل مل ہے جو ان کی ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔

اعجاز قریشی کے بقول پی ایس او سے معاہدے کے تحت یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ پیپکو کو حسب ضرورت فرنس آئل فراہم کی جائے گا۔

اسی بارے میں