لاہور: بجلی کے اضافی بلوں کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لاہور میں گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بجلی کے بلوں میں شامل ایندھن سرچارج کو ادا نہ کرنے کی صارفین کو کی گئی ہدایت پر صارفین اپنے بل ادا کرنے کے لیے گو مگو کا شکار رہے۔

بدھ کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا کئی روز سے جاری احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلوں کو درست نہ کرنے کا مسئلہ بھی عوام کے غم و غصے کو بڑھانے اور احتجاج کا سبب بنا۔

ایندھن کے سرچارج کی صورت میں اس ماہ بجلی کے بل توقع سے بہت زیادہ آنے پر قومی اسمبلی میں ہونے والی بحث کے بعد میڈیا پر یہ اطلاعات آئیں کہ وزارت بجلی و پانی نے کہا کہ صارفین اس اضافی بل کو ادا نہ کریں۔

نامہ نگار مونا رانا کے مطابق اس ضمن میں لاہور میں بجلی کی ترسیل کے ادارے لیسکو کے مختلف دفاتر میں بل کی تصیح کرانے کے لیے آنے والے صارفین کا تانتا بندھ گیا لیکن ان کے بلوں کو درست کرنے کی بجائے متعلقہ حکام نے انہیں پورا بل ادا کرنے کی ہدایت کی جس پر کچھ جگہوں پر لوگ مشتعل ہو گئے اور انہوں نے بجلی کے دفاتر میں داخل ہو کر غصے کا اظہار کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

ٹاون شپ لاہور میں واقع لیسکو کے دفتر کا کافی نقصان ہوا اور مشتعل مظاہرین نے دفتر کا فرنیچر کمپیوٹر اور دیگر اشیاء کو نقصان پہچنایا۔

چند بجلی کے صارفین نے حکومتی اعلان کے بعد بینکوں میں جا کر ایندھن سرچارج کے بغیر بل جمع کرانے کی کوشش کی اور ناکام رہے اور انہیں مکمل بل ادا کرنے پڑے کیونکہ بینک انتظامیہ نے بھی کہا کہ انہیں حکومت کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی لہذٰا بل کی ادائیگی کی تاریخ قریب ہونے کے سبب صارفین کو بل ادا کرنا پڑا۔

ایسی صورتحال کیوں پیدا ہوئی لاہور میں بجلی کی سپلائی کے ادارے لیسکو کے جرنل مینجر احسان الہی کا اس ضمن میں کہنا تھا دراصل حکومت نے یہ اعلان اگلے ماہ کے بلوں کے لیے کیا تھا کہ جبکہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اطلاق اسی ماہ کے بلوں پر ہو گا اور اسی الجھن اور گو مگو کے سبب یہ افراتفری پیدا ہوئی اور لوگ مشتعل ہوئے۔

پاکستان میں عام طور پر سردیوں میں بجلی کےکم استعمال کے سبب صارفین کو بجلی کے نسبتاً کم بل دینے پڑتے ہیں لیکن اس بار مارچ میں جہاں لوگ بجلی کے کم بل کی توقع کیے بیٹھے تھے انہیں گزشتتہ برس اگست میں استعمال کی گئی بجلی پر ایندھن کا ٹیکس اب بھرنا پڑ رہا ہے اور ظاہر ہے لوڈ شیڈنگ کے سبب پہلے سے ناراض صارفین کے لیے یہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔

بجلی کو لوڈ شیڈنگ پر کئی روز سے ہونے والے احتجاجی مظاہرے بدھ کو بھی جاری رہے۔لاہور فیصل آباد سرگودھا اور راولپنڈی میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ فیصل آباد میں مل مزدوروں نے مختلف مقامات پر مظاہرے کیے۔

سرگودھا جی ٹی روڈ اور موٹروے پر یہ مظاہرین جمع ہو گئے اور کئی گھنٹے ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا۔

اسی بارے میں